
محمود احمد, September 18,2026
ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
سعودی عرب کے مغربی علاقے میں واقع تزویراتی عسکری اڈے ‘طائف ایئربیس’ پر ہونے والے رات گئے متعدد حملوں کے دوران ایک اطالوی جنگی طیارہ بھی متاثر ہوا ہے۔ اٹلی کی وزارتِ دفاع نے جمعہ کے روز واقعے کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ایئربیس پر موجود تمام اطالوی عسکری اہلکار محفوظ ہیں اور انہیں کسی قسم کا جانی نقصان نہیں پہنچا ہے۔
اطالوی وزیر دفاع گائیڈو کروسیتو (Guido Crosetto) کے مطابق حملے کی زد میں آنے والا طیارہ F-2000 تھا، جسے عام طور پر ‘یوروفائٹر ٹائفون’ (Eurofighter Typhoon) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مذکورہ جنگی طیارہ ایئربیس کے ایک غیر مرکزی اور بیرونی حصے میں موجود تھا جہاں اسے نقصان پہنچا۔ وزیر دفاع نے واضح کیا کہ اطالوی عسکری عملے کے زیر استعمال دیگر گاڑیوں یا دفاتر کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور انہوں نے اٹلی کے چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل لوسیانو پورتولانو کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر صورتحال اور سکیورٹی اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا ہے۔
طائف میں اطالوی فوجی اہلکار داعش کے خلاف قائم بین الاقوامی عسکری مشن ‘آپریشن انہرنٹ ریزولو’ (Operation Inherent Resolve) کے تحت تعینات ہیں۔ اطالوی عسکری قیادت نے طائف میں موجود اپنے اہلکاروں کی حتمی سلامتی یقینی بنانے اور خطے کی صورتحال کے پیشِ نظر اپنے تمام آپریشنل آپشنز پر فوری نظرثانی کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ طائف ایئربیس سعودی فضائیہ کے اہم ترین اڈوں میں سے ایک ہے جہاں حالیہ دنوں میں ڈرون حملوں کے خطرات میں ڈرامائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروپ کے درمیان حالیہ بڑھتی ہوئی شدید کشیدگی اور فضائی حدود میں متعدد ڈرونز کو تباہ کیے جانے کے واقعات کے تناظر میں اس حملے کو انتہائی حساس قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم، طائف ایئربیس پر ہونے والے اس مخصوص حملے کی ذمہ داری سے متعلق فی الحال کسی بھی فریق کی جانب سے حتمی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے اور سعودی عسکری حکام کی جانب سے واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر اٹلی کی وزارتِ دفاع کے باضابطہ بیانات، اطالوی عسکری ذرائع اور سعودی عرب کی علاقائی سکیورٹی رپورٹس کی روشنی میں تدوین کی گئی ہے۔
ماخذ: مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز ریاض۔