
محمود احمد, September 18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
پاکستان نے باب المندب آبنائے کے گرد دن بہ دن پیچیدہ ہوتی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ’’غیر معمولی طور پر سنگین‘‘ قرار دے دیا ہے۔ اسلام آباد کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یمن میں جاری حوثی تنازع کا دیرپا حل عسکری قوت یا زبردستی کے اقدامات کے بجائے محض باہمی بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ہی تلاش کیا جانا چاہیے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کے رسمی مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات انتہائی سنگین اور باعثِ تشویش ہیں، جن پر پاکستان مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس تنازع کے نتیجے میں علاقائی استحکام اور بین الاقوامی سمندری سلامتی کو لاحق خطرات پر اسلام آباد کو گہری تشویش ہے۔ باب المندب کی کشیدگی نہ صرف یمن اور اس کے پڑوسی ممالک کے لیے سکیورٹی چیلنج ہے بلکہ ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ کو ملانے والی اس اہم ترین بحری گزرگاہ کے متاثر ہونے سے عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر شدید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ نے حوثیوں سے اپنی تمام تر متنازع عسکری سرگرمیاں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ زبردستی کے اقدامات تنازع کا حل نہیں ہو سکتے۔ پاکستان کے نزدیک سیاسی مکالمہ اور سفارت کاری ہی وہ مؤثر ذرائع ہیں جن کے ذریعے خطے میں پائیدار امن اور استحکام قائم کیا جا سکتا ہے۔ یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان دوبارہ شروع ہونے والی شدید لڑائی کے تناظر میں پاکستان نے عسکری تصادم کے بجائے سیاسی اور سفارتی کوششوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ اور ترجمان دفتر خارجہ کے سرکاری بیانات کی روشنی میں تدوین کی گئی ہے۔
ماخذ: ڈپلومیٹک ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔