

محمود احمد, September 20,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیمپ ڈیوڈ میں اپنا چھٹیاں گزارنے کا سیشن وقت سے پہلے اچانک ختم کر کے ہفتے کی شام واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس واپسی اختیار کر لی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو اتوار کی شب واشنگٹن پہنچنا تھا، تاہم ان کا شیڈول اچانک تبدیل کر دیا گیا اور ان کا ہیلی کاپٹر ‘میرین ون’ ہفتے کی رات تقریباً 8 بجے وائٹ ہاؤس کے قریب ایلیپس پر اترا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے صدر ٹرمپ کی قبل از وقت واپسی کی کوئی باضابطہ وجہ تو جاری نہیں کی گئی، تاہم اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ کی حساس صورتحال اور ایران کے معاملے سے جوڑا جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ کی یہ ہنگامی واپسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں عسکری و سفارتی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ تہران نے قطر اور پاکستان کی وساطت سے واشنگٹن کو مذاکرات کی بحالی کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ، منجمد اثاثوں کی واگزاری اور بحری ناکہ بندی ختم کرنے کی شرائط بھیج دی ہیں اور اب صدر ٹرمپ کے جواب کا انتظار ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب سعودی عرب کی جانب حوثیوں کے بیلسٹک میزائل داغنے اور ریاض کے قریب ایک آئل تنصیب میں آگ لگنے کی اطلاعات کے بعد امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایات جاری کیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ایک انٹرویو میں اعتراف کیا تھا کہ وہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے بحران پر ایک انتہائی اہم فیصلے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایسے میں جہاں آئندہ ہفتے نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی متوقع ہے، صدر کی کیمپ ڈیوڈ سے اچانک واپسی کو واشنگٹن کی آئندہ اہم عسکری و سفارتی حکمتِ عملی کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، کیمپ ڈیوڈ کے قریب فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے ایک شہری طیارے کو امریکی F-16 طیارے نے بحفاظت باہر نکال لیا، تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ اس واقعے کا صدر کی واپسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کیمپ ڈیوڈ سے قبل از وقت واپسی کی بنیادی وجہ کا وائٹ ہاؤس نے سرکاری طور پر اعلان نہیں کیا، تاہم مشرقِ وسطیٰ کی پیچیدہ صورتحال اور ایران کی جانب سے ملنے والی شرائط کو اس واپسی کا اہم بین الاقوامی تناظر قرار دیا جا رہا ہے۔
ماخذ: فارن اینڈ وائٹ ہاؤس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز واشنگٹن / اسلام آباد۔