

محمود احمد, September 20,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
ایران کی اسلامی شوریٰ مجلس (پارلیمان) کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے تصدیق کی ہے کہ تہران نے ثالث ممالک کے ذریعے امریکا کو مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی پیشگی شرائط اور اہم پیغامات باضابطہ طور پر پہنچا دیے ہیں۔ اتوار کے روز ایرانی پارلیمان سے خطاب کرتے ہوئے باقر قالیباف نے واضح کیا کہ ایران ایک طرف اپنی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے جنگ کا مکمل مقابلہ کرے گا جبکہ دوسری جانب سفارتی راستے سے مذاکرات کا باب بھی کھلا رکھے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے خاتمے کی باتیں تو ہو رہی ہیں لیکن اس کے مؤثر اور حتمی خاتمے کے لیے فی الحال کوئی واضح لائحہ عمل موجود نہیں ہے، اس لیے تہران بیک وقت جنگ اور سفارت کاری دونوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔
ایرانی سپیکر نے زور دے کر کہا کہ جب تک تہران کی پیشگی شرائط تسلیم نہیں کی جاتیں، ایران مذاکرات کی سابقہ صورتحال کی بحالی یا عالمی توانائی کے لیے انتہائی کلیدی و حکمتِ عملی کی حامل گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو دوبارہ کھولنے پر بالکل آمادہ نہیں ہوگا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے بھی تصدیق کی تھی کہ پاکستان اور قطر کے وساطتی ذرائع سے واشنگٹن کو شرائط پہنچا دی گئی ہیں، جن میں تمام محاذوں پر جنگ کا فوری خاتمہ، منجمد ایرانی اثاثوں کی واگزاری اور بحری ناکہ بندی کا خاتمہ شامل ہیں اور اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردِعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی مارکیٹ میں ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ایرانی قیادت کی طرف سے اس گزرگاہ کو مذاکراتی شرائط سے مشروط کیے جانے کے بعد بین الاقوامی سفارتی کوششیں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ تہران کی اس دہری حکمتِ عملی کے باوجود، امریکہ یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے ان شرائط کو قبول کرنے یا باضابطہ معاہدے کا فی الحال کوئی حتمی اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
آبنائے ہرمز اور مذاکراتی شرائط سے متعلق تمام نکات ایرانی حکام کے باضابطہ بیانات پر مبنی ہیں۔ قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کی ترسیل کی تصدیق تہران نے کی ہے، تاہم امریکی انتظامیہ نے ان شرائط کی قبولیت یا براہِ راست مذاکرات کا تاحال کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔
ماخذ: مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز تہران / اسلام آباد۔