

منصور احمد,September 20,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 ستمبر 2026ء
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ احتجاج، مارچ، دھرنے اور ہڑتالیں درپیش مسائل کا مستقل حل نہیں ہو سکتے، جبکہ تمام سیاسی و معاشی معامله جات کو سنجیدہ بات چیت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے طے کرنا ہی سب سے مناسب اور پائیدار راستہ ہے۔ اپنے ایک اہم بیان میں وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ مارچ اور دھرنوں کے باعث ملک میں مجموعی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں، جس سے معاشی ترقی کا جاری عمل سست پڑنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نازک موڑ پر تمام فریقین کو ذاتی مفادات پر ملک کے معاشی مفادات کو فوقیت دینی چاہیے اور مکالمے کا راستہ اختار کرنا چاہیے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے اور اس کامیابی کے لیے سیاسی و سماجی استحکام بنیادی شرط ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے، غیر ملکی سرمایہ کاری جذب کرنے اور طویل المدتی معاشی منصوبہ بندی کی تسلسل کے لیے سازگار و مستحکم ماحول کا ہونا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہڑتالوں اور مظاہروں کے نتیجے میں کاروباری طبقے اور عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس کا براہِ راست اثر ملکی معیشت پر پڑتا ہے۔
وزیر خزانہ نے قومی یکجہتی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اور تمام سیاسی و سماجی حلقوں کے درمیان بات چیت کے ذریعے اختلافات میں کمی لائی جا سکتی ہے اور درپیش معاشی چیلنجز کا مقابلہ صرف اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے احتجاج اور لانگ مارچ کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کے جاری کردہ باضابطہ بیان کی روشنی میں شائع کی گئی ہے۔ احتجاج کے آئینی حق اور معاشی اثرات کے حوالے سے تمام قانونی و معاشی پہلو متعلقہ قوانین اور ماہرین کے تجزیوں پر مبنی ہیں۔
ماخذ: بزنس ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔