

محمود احمد, September 22,2026
صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء
یمن کے حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے پاکستان اور ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ یمن میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی عسکری مہم کا حصہ نہ بنیں اور کسی بھی ممکنہ فوجی تعاون کے معاملے میں محتاط رہیں۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام نشریاتی ادارے ‘المسیرہ’ پر صنعا پر قبضے کے 12 سال مکمل ہونے پر اپنے تصویری خطاب میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب یمن میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اسلام آباد اور انقرہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حوثی رہنما نے الزام لگایا کہ ان کے علاقوں پر ستمبر کے دوران سینکڑوں سعودی فضائی حملے کیے گئے ہیں اور دونوں اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ کسی مالی یا سیاسی مفاد کے بدلے اس جنگ میں شمولیت سے گریز کریں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 7 اگست 2026ء کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے درمیان مکہ مکرمہ میں مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں کا دفاعی مسالہ قرار دیا گیا تھا۔ تاہم، پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے 10 ستمبر کے اپنے بیان میں واضح کر دیا تھا کہ حوثی حملوں کے بعد پاکستان کی جانب سے یمن میں کسی فوری عسکری ردِعمل یا فوجی دستوں کی بھیجنے کا اقدام زیرِ غور نہیں ہے۔ دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے سعودی عرب کی تکنیکی و دفاعی ضروریات پوری کرنے کا اشارہ دیا ہے، مگر پاکستان نے تاحال خطے میں کسی بھی براہِ راست عسکری پیش رفت سے خود کو الگ رکھا ہوا ہے۔
حوثیوں کی جانب سے پاکستان اور ترکی کو کی جانے والی یہ اپیل ایک ایسے نازک موڑ پر سامنے آئی ہے جب بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں سے لے کر باب المندب تک جنگ شدید ترین شکل اختیار کر چکی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یمن میں بڑھتی ہوئی اس عسکری پیش قدمی اور تصادم نے جہاں سعودی عرب کی تیل برآمدی تنصیبات کی سکیورٹی پر سوالات اٹھائے ہیں، وہاں باب المندب سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارتی اور توانائی کی ترسیلی شاہراہوں کے لیے بھی شدید خطرات پیدا کر دیے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر المسیرہ ٹی وی پر شائع شدہ عبدالملک الحوثی کے خطاب اور پاکستان و ترکی کی وزارتِ خارجہ کے باضابطہ بیانات پر مبنی ہے۔ خطے کی امن و امان کی صورتحال پر تازہ ترین پیش رفت فوری اپ ڈیٹ کی جائے گی۔
ماخذ: مڈل ایسٹ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز صنعا / اسلام آباد۔