Latest news

جنوبی اور مشرقی گرین لینڈ میں دو نئے امریکی عسکری مراکز کا قیام زیرِ غور؛ ڈنمارک اور گرین لینڈ کی خودمختاری برقرار رکھنے کی ضمانت

Spread the love

محمود احمد, September 22,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 22 ستمبر 2026ء

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیویارک میں ڈنمارک اور گرین لینڈ کے رہنماؤں سے اہم ملاقات کرنے جا رہے ہیں، جس میں گرین لینڈ میں امریکی فوجی موجودگی کو وسعت دینے سے متعلق ایک تاریخی سہ فریقی سکیورٹی معاہدے پر دستخط متوقع ہیں۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے جاری سفارتی کشیدگی کو ختم کرنے اور آرکٹک خطے میں سکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس معاہدے کے تحت امریکا کو گرین لینڈ میں اپنی عسکری سرگرمیاں بڑھانے کی اجازت مل جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا جزیرے کے جنوبی حصے نارسارسواک اور مشرقی خطے میسٹرزویگ میں دو نئے فوجی مراکز قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ شمال مغربی علاقے میں واقع پٹوفک اسپیس بیس کے ذریعے امریکہ پہلے ہی میزائل دفاع اور خلائی نگرانی انجام دے رہا ہے۔ تازہ معاہدہ واشنگٹن کو گرین لینڈ کی فضائی حدود کے استعمال اور مستقل رسائی کا حق دے گا، جس سے مستقبل میں مزید فوجی تنصیبات کی راہ ہموار ہوگی۔

یہ معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے دوران گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔ تاہم، ڈنمارک اور گرین لینڈ کی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ آرکٹک میں دفاعی استحکام کے لیے ہے اور اس سے ان کی قومی خودمختاری و حقِ خود ارادیت پر کوئی حرف نہیں آئے گا۔ معاہدے میں غیر نیٹو ممالک کو گرین لینڈ میں عسکری بنیادیں بنانے سے روکنے اور حساس معدنی سرمائے کی حفاظت سے متعلق سخت پابندیاں بھی شامل کی گئی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، سی بی ایس نیوز اور دی گارڈین کی رپورٹ کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔ حتمی دستخط اور باضابطہ مشترکہ اعلامیہ جاری ہونے پر مزید تفاصیل شائع کی جائیں گی۔

ماخذ: انٹرنیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز نیویارک۔