Latest news

تائیوان کی خودمختاری اور امریکی پالیسی: چین، امریکہ اور تائیوان کے درمیان سہ فریقی اسٹریٹجک تناؤ

Spread the love

محمود احمد, September 25,2026

بیجنگ/واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء

تائیوان کی جغرافیائی اور سیاسی حیثیت ایک بار پھر بین الاقوامی سفارت کاری اور چین و امریکہ کے دوطرفہ تعلقات کے مرکز میں آ گئی ہے۔ بیجنگ حکومت تائیوان کو چین کا ناقابلِ تقسیم حصہ قرار دیتی ہے اور اسے اپنے ملک کے ساتھ دوبارہ متحد کرنے کو بنیادی قومی مقصد گردانتی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے دورِ حکومت میں چین نے تائیوان کی باضابطہ آزادی کی تمام تر کوششوں کی شدید مخالفت کرتے ہوئے اس معاملے پر اپنے موقف میں غیر معمولی سختی پیدا کی ہے، جبکہ تائیوان کی منتخب جمہوریت اور خود مختار انتظامی نظام اس بیانیے کو رد کرتے ہوئے اپنے سیاسی حقوق کا دفاع کرتے ہیں۔

دوسری جانب امریکہ اور چین کے درمیان تائیوان پالیسی ہمیشہ سے ایک باریک اور حساس سفارتی نقطہ رہی ہے۔ امریکہ نے ‘ون چائنا پالیسی’ کے تحت بیجنگ سے باضابطہ سفارتی تعلقات تو قائم رکھے ہیں، مگر ساتھ ہی ‘تائیوان ریلیشنز ایکٹ’ کے تحت تائیوان کو اپنی خود دفاعی صلاحیتیں برقرار رکھنے کے لیے عسکری و دفاعی وسائل کی فراہمی جاری رکھی ہوئی ہے۔ صدر شی جن پنگ کے حالیہ بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ بیجنگ کے لیے تائیوان کی ‘ریڈ لائن’ سب سے مقدم ہے، تاہم امریکی انتظامیہ نے اپنی روایتی تائیوان پالیسی یا دفاعی تعاون میں کسی بھی قسم کی فوری یا بنیادی تبدیلی کے امکان سے متعلق اب تک کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ چینی وزارتی بیانات، امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پریس بریفنگز اور ‘تائیوان ریلیشنز ایکٹ’ کے قانونی فریم ورک کے مصدقہ شواہد کی بنیاد پر ترتیب دی گئی ہے۔

ماخذ: بین الاقوامی پریس ڈیسک، رائٹرز (Reuters)، امریکی وزارتِ خارجہ / نیوز اینڈ نیوز واشنگٹن و بیجنگ۔