Latest news

اقوامِ متحدہ جنرل اسمبلی: نیتن یاہو کی مغربی رہنماؤں اور ترکیہ پر شدید تنقید، محمود عباس کا دو ریاستی حل اور فلسطینی بقا پر زور

Spread the love

روزینہ اسماعیل, September 25,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتِ حال کے تناظر میں شدید سفارتی اور لفظی جنگ دیکھنے میں آئی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو کے باضابطہ خطاب سے چند گھنٹے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے نیویارک میں موجود نہ ہونے کے باعث ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے ذریعے اسمبلی سے خطاب کیا۔ امریکی ویزا جاری نہ ہونے کی وجہ سے صدر عباس ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔ اپنے خطاب میں محمود عباس نے خبردار کیا کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کی بے دریغ توسیع فلسطینی عوام کے اپنی تاریخی سرزمین پر وجود کے لیے شدید خطرہ بن چکی ہے اور اس سے ‘دو ریاستی حل’ کے تمام امکانات معدوم ہو رہے ہیں۔ انہوں نے غزہ میں تباہی، بھوک اور جبری بے دخلی پر عالمی برادری سے فوری و مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو نے اپنے سخت ترش خطاب میں اسرائیل پر تنقید کرنے والے تمام عالمی رہنماؤں اور یورپی ممالک کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے اسرائیل پر عائد نوآبادیاتی الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ نیتن یاہو نے ترک صدر رجب طیب اردوان کو “آمر” قرار دیتے ہوئے ان پر حماس کی پشت پناہی کا الزام لگایا، جس کے جواب میں ترکیہ کے ایوانِ صدر کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے اقوامِ متحدہ جیسے عالمی فورم کو بے بنیاد الزامات کے لیے استعمال کرنے کی شدید مذمت کی۔ اس کے علاوہ نیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا، جبکہ دوسری جانب نیتن یاہو خود بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کے تحت گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کر رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ رپورٹ اقوامِ متحدہ کے جنرل اسمبلی اجلاس کے باضابطہ بیانات، بین الاقوامی اخبارات ‘فارن پالیسی’ (Foreign Policy) اور ‘دی ٹائمز آف اسرائیل’ (The Times of Israel) کی مصدقہ رپورٹس کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔

ماخذ: فارن پالیسی، دی ٹائمز آف اسرائیل، یو این نیوز ڈیسک / نیوز اینڈ نیوز نیویارک۔