Latest news

ایرانی پروازوں پر امریکی پابندیوں کا خدشہ، عراق کی ہوائی اڈوں کے لیے استثنیٰ کی کوشش

Spread the love

محمود احمد, September 26,2026

بغداد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 ستمبر 2026ء

عراق نے امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات سے اپنے بعض ہوائی اڈوں کو محفوظ رکھنے کے لیے واشنگٹن کے ساتھ براہِ راست مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔ عراقی وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد ایسے ہوائی اڈوں کے لیے استثنیٰ حاصل کرنا ہے جہاں ایرانی پروازوں کو سہولتیں یا خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر کی جانب سے سنیچر کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی حکام سے بات چیت کے ذریعے انسانی بنیادوں پر فضائی سفر کی بحالی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بیان کے مطابق اس میں طبی علاج، تعلیم، مذہبی زیارات اور شہری امور کے لیے سفر شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ نے نئی پابندیوں کے تحت ان ہوائی اڈوں کو بھی پابندیوں کی زد میں لانے کی دھمکی دی ہے جہاں ایرانی پروازوں کو سہولت یا خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق ان پابندیوں کے خدشات کے باعث گزشتہ چند روز کے دوران عراق سمیت ایران کے پڑوسی ممالک کے لیے متعدد ایرانی پروازیں معطل ہو چکی ہیں۔ اس صورتِ حال سے خطے میں فضائی رابطوں اور مسافروں کی آمدورفت پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

عراقی وزیر اعظم کے دفتر نے واضح کیا کہ استثنیٰ حاصل کرنے کی کوشش کا مقصد عام شہریوں کی ضروری سفری سہولتوں کو بحال رکھنا ہے، بالخصوص ان افراد کے لیے جنہیں علاج، تعلیم یا مذہبی زیارات کی غرض سے سفر کرنا پڑتا ہے۔

بیان میں عراق نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے خبردار کیا کہ بحران کا مسلسل جاری رہنا صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

عراق نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ موجودہ بحران اور تنازعات کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور بات چیت کا راستہ اختیار کریں اور ایسے حل تلاش کریں جو خطے کے ممالک اور عوام کے مفاد میں ہوں۔

تاحال امریکی حکام کی جانب سے عراقی درخواست پر کسی حتمی فیصلے یا استثنیٰ کی منظوری کی تفصیلات فراہم کردہ بیان میں شامل نہیں ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: خبر عراقی وزیر اعظم کے دفتر کے بیان اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ امریکی پابندیوں کے دائرہ کار اور عراق کے لیے کسی ممکنہ استثنیٰ کی حتمی صورتِ حال سے متعلق مزید سرکاری تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

ماخذ: عراقی وزیر اعظم کے دفتر کا بیان — فراہم کردہ خبر کا متن۔