

منصور احمد,September 13,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 13 ستمبر 2026ء
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور علاقائی صورتحال کے تناظر میں ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان اور عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین سے الگ الگ ٹیلیفونک رابطے کیے ہیں۔ بات چیت میں دوطرفہ تعلقات، خطے کی تازہ صورتحال اور کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایرانی وزیر خارجہ اور ترک ہم منصب ہاکان فیدان کے درمیان ہونے والی گفتگو میں خطے کی تازہ صورتحال، جاری سفارتی رابطوں اور کشیدگی کو کم کرنے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ دونوں جانب سے علاقائی بحران کے مزید پھیلاؤ کو روکنے اور سفارتی مشاورت جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ترکی اور ایران کے درمیان یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب آبنائے ہرمز کی صورتحال، خطے میں جاری تنازع اور مختلف فریقوں کے درمیان سفارتی مذاکرات بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ترک ذرائع کے مطابق فیدان اور عراقچی نے آبنائے ہرمز سے متعلق جاری رابطوں، خطے میں تنازع روکنے کے لیے مذاکرات اور سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے حملوں سمیت علاقائی پیش رفت پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
دوسری جانب عباس عراقچی نے عراقی وزیر خارجہ فؤاد حسین سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی۔ دونوں وزرائے خارجہ نے ایران اور عراق کے باہمی تعلقات، علاقائی صورتحال اور دونوں ممالک کی مشترکہ سرحد پر امن و استحکام سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی اور عراقی وزرائے خارجہ نے مشترکہ سرحد پر سکیورٹی اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے رابطہ کاری جاری رکھنے پر زور دیا۔ دونوں جانب سے علاقائی صورتحال کے حوالے سے ذمہ دارانہ مؤقف اختیار کرنے اور کشیدگی میں مزید اضافے اور تنازعات کے پھیلاؤ کو روکنے کی ضرورت پر بھی اتفاق کیا گیا۔
ایران، عراق اور ترکی کے درمیان ہونے والی یہ سفارتی سرگرمیاں خطے میں بڑھتے ہوئے بحران کے دوران اہمیت رکھتی ہیں۔ عراق کی جغرافیائی حیثیت ایران، خلیجی خطے اور شام کے درمیان رابطے کے حوالے سے اہم ہے، جبکہ ترکی بھی علاقائی تنازعات کے سیاسی اور سفارتی حل کے لیے مختلف فریقوں سے رابطے میں ہے۔
تہران کی جانب سے انقرہ اور بغداد کے ساتھ بیک وقت سفارتی رابطوں کو خطے میں کشیدگی کو محدود رکھنے کی کوششوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم ان رابطوں کے نتیجے میں کسی فوری معاہدے یا بحران کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا، اس لیے ان سفارتی کوششوں کے عملی نتائج کے بارے میں حتمی رائے قائم کرنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر دستیاب ایرانی، عراقی اور ترک ذرائع اور بین الاقوامی رپورٹس کی بنیاد پر اردو قارئین کے لیے مرتب اور ایڈیٹ کی گئی ہے۔ خبر میں مختلف فریقوں کے مؤقف کو ان کے متعلقہ ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے۔ خطے کی صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے، اس لیے مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔
ماخذ: ایرانی و عراقی حکام، ترک سفارتی ذرائع، Anadolu Agency





