ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اردنی ہم منصب کو کرارا جواب: جارحیت کا جواب نہ دینے کی منطق پر سوال اٹھا دیا

محمود احمد, September 04,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردن کے وزیرِ خارجہ کے حالیہ بیانات پر شدید ردِعمل کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ ایران کو ایسے جارح کا جواب دینے کے لیے کب تک انتظار کرنا چاہیے جو نہ تو عرب ممالک کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور نہ ہی ایرانی سلامتی کا پاس رکھتا ہے۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک تفصیلی بیان میں ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اردنی وزیرِ خارجہ کو آڑے ہاتھوں لیا اور ان پر حقائق سے لاعلمی کا الزام عائد کیا۔ عباس عراقچی نے انکشاف کیا کہ ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے کیے گئے ابتدائی اور ابتدائی نوعیت کے حملوں کے دوران مختلف عرب ممالک کی فضائی، زمینی اور آبی حدود کا استعمال کیا گیا تھا۔

یہ سفارتی لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب اردن کی وزارتِ خارجہ نے کویت میں ایرانی کارروائیوں اور حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں “وحشیانہ” قرار دیا تھا۔ اردنی بیان میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام قومی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی، خطے کی سلامتی و استحکام کے لیے شدید خطرہ اور بین الاقوامی قوانین سمیت اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

دوسری جانب قطر کی وزارتِ خارجہ نے بھی کویت کی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے باضابطہ بیان میں متنبہ کیا تھا کہ اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو کم کرنے اور امن و استحکام قائم کرنے کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایران کا متحدہ عرب امارات میں المنہاد ایئر بیس کو نشانہ بنانے کا دعویٰ: صدر مسعود پزشکیان کی خطے میں بدامنی پر سخت تنبیہ

محمود احمد, August 31,2026

تہران/ابوظہبی (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اگست 2026ء

ایران کی مسلح افواج نے جاری علاقائی کشیدگی کے دوران ایک اور بڑی عسکری کارروائی کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر حملے کے بعد اب متحدہ عرب امارات میں واقع ‘المنہاد ایئر بیس’ پر موجود امریکی ہیلی کاپٹروں، دفاعی آلات اور فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے مخصوص ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوجی ذرائع کے مطابق المنہاد ایئر بیس پر یہ کارروائی ڈرونز اور گائیڈڈ راکٹس کے ذریعے کی گئی، جس کا مقصد خطے میں امریکی فورسز کی لاجسٹک اور عسکری نقل و حرکت کو مفلوج کرنا ہے۔ دوسری جانب، اس کارروائی کے فوراً بعد ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے اپنے ایک اہم بیان میں خطے کی تشویشناک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’خطے میں عدم استحکام، جنگ کی شدت اور بدامنی کسی بھی ملک کے مفاد میں نہیں ہے اور یہ صورتحال بلا تفریق تمام ممالک کے لیے سنگین مشکلات اور معاشی بحران پیدا کرے گی۔‘

واضح رہے کہ خلیجی خطے میں ایران، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مابین جاری عسکری کشیدگی اب انتہائی خطرناک موڑ پر داخل ہو چکی ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور اردن میں امریکی اڈوں پر مسلسل پاسدارانِ انقلاب اور ایرانی افواج کے دعووں سے مشرقِ وسطیٰ میں ہمہ گیر جنگ کی لپیٹ میں آنے کے خدشات شدت اختیار کر گئے ہیں۔

سعودی عرب پر حملے قابلِ مذمت اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں، وزیر اعظم محمد شہباز شریف کا سخت ردِعمل

کاشف عباسی , JULY 14,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 جولائی 2026ء

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے سعودی عرب پر کیے گئے حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے برادر ملک کی سلامتی اور خودمختاری کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور تزویراتی حمایت کا صریح اعادہ کیا ہے۔ منگل کے روز سماجی رابطے کی مقتدر ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ اپنے ایک خصوصی اور اہم بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان گزشتہ رات برادر ملک مملکتِ سعودی عرب پر کیے گئے صریح حملوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔

وزیر اعظم نے اپنے تزویراتی بیان میں واضح کیا کہ ایسے بزدلانہ اور قابلِ مذمت اقدامات مملکتِ سعودی عرب کی خودمختاری، خود مختار حیثیت اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، اور ان سے خطے کے پہلے سے نازک امن و استحکام کو مزید شدید نقصان پہنچنے کا سنگین خدشہ ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ پاکستان برادر ملک سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی اصولی اور غیر متزلزل حمایت کا عزم دہراتا ہے اور اس انتہائی نازک وقت میں اپنے سعودی بھائیوں کے ساتھ مکمل اور بے لوث یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے اپنے مقتدر پیغام کا اختتام کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان مشرقِ وسطیٰ اور وسیع تر خطے میں امن، استحکام، دیرپا سلامتی اور باہمی افہام و تفہیم کے فروغ کے لیے کی جانے والی تمام مخلصانہ، تعمیری اور سفارتی کوششوں کی بھرپور مقتدر حمایت جاری رکھے گا، کیونکہ سعودی عرب کا امن درحقیقت پورے خطے کے امن و سلامتی سے جڑا ہوا ہے۔