Latest news

خیبر پختونخوا اسمبلی ارکان کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی اجازت لازمی، محسن نقوی کی تنقید

Spread the love

کاشف عباسی , September 26,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 26 ستمبر 2026ء

خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ نے صوبائی اسمبلی کے ارکان کی گرفتاری، حراست یا تحویل میں لینے کے طریقۂ کار سے متعلق انسپکٹر جنرل پولیس خیبر پختونخوا کو باضابطہ مراسلہ جاری کرتے ہوئے قانون کے تحت مقررہ ضابطوں پر سختی سے عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس قانونی طریقۂ کار پر تنقید کرتے ہوئے قانون کے سامنے برابری سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔

25 ستمبر 2026 کو جاری کیے گئے مراسلے میں خیبر پختونخوا صوبائی اسمبلی (اختیارات، استثنیٰ اور مراعات) ایکٹ 2026 کی دفعہ 11 کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مراسلے کے مطابق کسی رکنِ صوبائی اسمبلی کو فوجداری الزام یا جرم کے تحت گرفتار کرنے یا انتظامی حکم کے تحت حراست میں لینے سے پہلے اسمبلی کے اسپیکر سے پیشگی اجازت حاصل کرنا ضروری ہوگا۔

گرفتاری سے پہلے وجوہات تحریری طور پر فراہم کرنا ہوں گی

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ مجسٹریٹ یا انتظامی اتھارٹی کو گرفتاری یا حراست کی وجوہات تحریری طور پر اسپیکر اسمبلی کو فراہم کرنا ہوں گی۔

قانون میں درج طریقۂ کار کے مطابق اسپیکر اگر عوامی مفاد میں ضروری سمجھیں تو متعلقہ پولیس افسر سے پولیس رپورٹ یا چالان طلب کر سکتے ہیں، تاکہ معاملے کے حقائق کا جائزہ لیا جا سکے۔

مراسلے کے مطابق اسپیکر اپنے صوابدیدی اختیارات استعمال کرتے ہوئے عدالت میں چالان جمع کرانے سے قبل مزید انکوائری کا حکم بھی دے سکتے ہیں۔

صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ نے آئی جی پولیس اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی رکنِ صوبائی اسمبلی کی گرفتاری یا حراست کی صورت میں مذکورہ قانونی تقاضوں اور طریقۂ کار کی مکمل پابندی یقینی بنائی جائے۔

محسن نقوی کی تنقید اور سوالات

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں اسپیکر کی پیشگی اجازت سے متعلق نوٹیفکیشن پر تنقید کی۔

محسن نقوی نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں اب اگر کسی رکنِ صوبائی اسمبلی پر فوجداری جرم کا الزام بھی ہو تو پولیس اس کی گرفتاری سے پہلے اسپیکر کی اجازت لینے کی پابند ہوگی۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کوئی رکنِ اسمبلی کسی شخص کو قتل کر دے تو کیا پولیس اس کی گرفتاری کے لیے بھی پہلے اسپیکر کی اجازت کا انتظار کرے گی؟

وفاقی وزیر داخلہ نے اس طریقۂ کار کو قانون کے سامنے برابری کے اصول کی غیر معمولی تشریح قرار دیا اور طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا یہی ریاستِ مدینہ ہے؟

محسن نقوی کے بیان میں قانونی طریقۂ کار پر اعتراضات سامنے آئے ہیں، جبکہ اسمبلی سیکریٹریٹ کے مراسلے میں متعلقہ قانون کی دفعہ 11 کے تحت مقررہ شرائط کی پابندی پر زور دیا گیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: خبر فراہم کردہ مراسلے کی تفصیلات اور محسن نقوی سے منسوب بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتاری کے لیے اسپیکر کی اجازت سے متعلق قانونی تقاضوں کی حتمی تشریح اور ان کے عملی اطلاق کا تعین متعلقہ قانون اور مجاز عدالتی فورمز کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے۔

ماخذ: خیبر پختونخوا اسمبلی سیکریٹریٹ کا 25 ستمبر 2026 کا مراسلہ اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ایکس پر بیان — فراہم کردہ خبر کا متن۔