

محمود احمد, September 26,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 26 ستمبر 2026ء
ایران کی اعلیٰ فوجی کمان خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے خبردار کیا ہے کہ اگر واشنگٹن نے ایران کے خلاف کوئی ’غلطی‘ کی تو خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات، تعیناتی مراکز اور مفادات کو نشانہ بنایا جائے گا۔
نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق اپنے سات روزہ منصوبے پر امریکہ کے ردعمل کا منتظر ہے۔
مہر نیوز ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ خطہ اس وقت سلامتی کے انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایجنسی کے مطابق امریکی فوجی نقل و حرکت سے کشیدگی میں اضافے کے خدشات بڑھ رہے ہیں، جبکہ اس دوران سفارتی رابطے اور ثالثی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
ایران کا مؤقف: جنگ شروع نہیں کریں گے، دفاع کے لیے تیار ہیں
مہر کے مطابق تہران کا کہنا ہے کہ ایران جنگ کا آغاز نہیں کرے گا، تاہم اگر اس پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ اپنی سلامتی اور علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
ایرانی فوجی کمان کی جانب سے یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور نقل و حرکت سلامتی کی صورتِ حال کو مزید حساس بنا رہی ہے۔ دوسری جانب سفارتی رابطوں اور ثالثی کی کوششوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
آبنائے ہرمز سے متعلق سات روزہ منصوبے پر امریکی ردعمل اس پیش رفت کا اہم پہلو ہے، تاہم فراہم کردہ رپورٹ میں واشنگٹن کے حتمی مؤقف یا کسی ممکنہ معاہدے کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اس خبر میں ایرانی فوجی کمان اور مہر نیوز ایجنسی سے منسوب بیانات رپورٹ کیے گئے ہیں۔ امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا انتباہ ایران کا بیان کردہ مؤقف ہے؛ کسی ممکنہ حملے یا امریکی ردعمل کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔
ماخذ: مہر نیوز ایجنسی — فراہم کردہ خبر کا متن۔