
محمود احمد, September 27,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء
ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز کے اندر تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد امریکہ کے باضابطہ جواب کا انتظار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کا حتمی مؤقف موصول ہونے کے بعد آئندہ کا فیصلہ کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں کہا کہ امریکی صدر ماضی میں کئی متضاد بیانات دے چکے ہیں، اس لیے ایران امریکہ کے باضابطہ جواب کا منتظر ہے۔ ان کے مطابق ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز پر حتمی فیصلہ امریکی مؤقف سامنے آنے کے بعد کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ایرانی تجویز ناقابل قبول قرار دے دی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیا۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے جنگ کے دوران شدید نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ امریکی صدر نے اس سے قبل یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول پہلے ہی امریکہ کے پاس ہے۔
ایران کی جانب سے پیش کردہ تجویز میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، دشمنی ختم کرنے اور جوہری پروگرام پر مذاکرات بحال کرنے کا معاملہ شامل ہے۔
ایران کی شرائط کیا ہیں؟
عباس عراقچی نے اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ضروری شرائط پوری ہو جائیں تو امریکہ کے ساتھ معاہدہ ممکن ہے۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق شرائط وہی ہیں جو جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں شامل تھیں۔
ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی بحری ناکہ بندی میں نرمی، ایرانی تیل کی فروخت پر پابندیوں میں رعایت اور لبنان سمیت خطے میں جنگ بندی معاہدے کے اہم نکات ہیں۔ تہران کا کہنا ہے کہ امریکی رضامندی کے بعد ابتدائی اقدامات مکمل کرکے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے، جس کے بعد جوہری پروگرام پر حتمی مذاکرات شروع ہوں گے۔
تاہم امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی شرائط کو قبول کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اقوام متحدہ میں سفارتی کوششیں
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہونے والی سفارتی بات چیت میں آبنائے ہرمز کھولنے اور دشمنی ختم کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
اس عمل میں ثالثوں کے ذریعے امریکہ تک پیغام پہنچایا گیا۔ امریکی حکام کی جانب سے پہلے مذاکرات کو مثبت اور تعمیری قرار دیا گیا تھا، تاہم صدر ٹرمپ کے حالیہ بیان سے معاہدے کے امکانات پر غیر یقینی برقرار ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم بحری گزرگاہ ہے۔ اس میں جہاز رانی کی رکاوٹوں نے عالمی تیل کی فراہمی اور توانائی کی منڈیوں پر دباؤ بڑھایا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی کامیابی یا ناکامی کے اثرات خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ایران کی تجویز اور امریکی صدر کا اسے مسترد کرنے کا بیان دونوں فریقوں کے اپنے مؤقف ہیں۔ ایران کے باضابطہ جواب کے انتظار اور ممکنہ معاہدے کی شرائط سے متعلق تفصیلات ایرانی حکام کے بیانات پر مبنی ہیں۔ فی الحال کسی حتمی معاہدے یا آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس (AP)، یورونیوز، واشنگٹن پوسٹ، دی گارڈین۔