Latest news

ایران عراق سرحدی شہر پنجوین کے شہری جنگ دوبارہ بھڑکنے کے خدشات میں مبتلا

Spread the love

محمود احمد, September 27,2026

پنجوین (نیوز اینڈ نیوز) — 27 ستمبر 2026ء

عراق کے خودمختار کردستان خطے میں ایران کی سرحد کے قریب واقع شہر پنجوین کے شہریوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوبارہ شدت اختیار کرنے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مقامی رہائشیوں کو خدشہ ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی سرحدی علاقوں کو ایک بار پھر میدانِ جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق پنجوین کے 57 سالہ رہائشی احمد فرج نے کہا ہے کہ انہیں بچپن میں ایران عراق جنگ کے دوران اپنے شہر کی تباہی آج بھی واضح طور پر یاد ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو سرحدوں کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے اور عام شہری ایک بار پھر اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔

احمد فرج نے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے بچپن میں اپنے شہر کو جنگ کی لپیٹ میں آتے دیکھا تھا۔ ان کے مطابق 1981 میں ایرانی حملے کے دوران پنجوین میں درجنوں شہری ہلاک ہوئے تھے۔

ایران عراق جنگ کی تباہی آج بھی شہریوں کو یاد

ایران اور عراق کے درمیان جنگ ستمبر 1980 میں شروع ہوئی تھی، جو تقریباً آٹھ سال جاری رہی۔ اس تنازع کے دوران دونوں ممالک میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔

اے ایف پی کے مطابق پنجوین کے شہریوں کو بالآخر شہر خالی کرنا پڑا۔ اس کے بعد عراقی حکومت نے ایرانی افواج کو شہر میں داخل ہونے اور وہاں فوجی اڈہ قائم کرنے سے روکنے کے لیے دھماکا خیز مواد اور بلڈوزروں کے ذریعے عمارتیں اور مکانات مسمار کر دیے تھے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران شہر کے رہائشی مکانات، تعلیمی ادارے اور دیگر عمارتیں تباہ ہوئیں، جن میں سے بعض کے آثار آج بھی موجود ہیں۔

ڈرون اور میزائل حملوں سے سرحدی علاقوں میں تشویش

اے ایف پی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے اثرات عراقی کردستان تک بھی پہنچے ہیں۔ پنجوین اور اس کے گردونواح میں ڈرونز اور میزائل دیکھے جانے کے واقعات نے مقامی آبادی کی تشویش میں اضافہ کیا ہے۔

ایران اور اس کے اتحادی عراقی مسلح گروہوں کی جانب سے امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اڈوں اور ایرانی کرد مخالف گروہوں کے خلاف حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ تنازع کے ابتدائی مرحلے کے مقابلے میں تشدد کی شدت میں کمی آئی ہے، تاہم سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہری اب بھی کسی ممکنہ نئے حملے یا فوجی کارروائی کے خدشات کا سامنا کر رہے ہیں۔

پنجوین کے رہائشیوں کے مطابق جنگ کے اثرات صرف سکیورٹی تک محدود نہیں بلکہ مقامی معیشت اور روزمرہ زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔ شہریوں کو خدشہ ہے کہ اگر کشیدگی دوبارہ بڑھی تو انہیں نقل مکانی، معاشی مشکلات اور مزید تباہی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

پنجوین عراق کے خودمختار کردستان خطے میں ایران کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ اس شہر کی تاریخ ایران عراق جنگ کے دوران ہونے والی تباہی سے جڑی ہوئی ہے، جس کے اثرات مقامی آبادی کی یادداشت میں آج بھی موجود ہیں۔ اے ایف پی کی رپورٹ میں شہریوں کے خدشات اور ماضی کے واقعات بیان کیے گئے ہیں؛ اس میں پنجوین پر کسی نئے حملے یا شہر کو فوری خطرے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

ماخذ: خبر رساں ادارہ اے ایف پی (AFP)، ڈیلی سن میں 27 ستمبر 2026 کو شائع کردہ رپورٹ