

روزینہ اسماعیل, September 28,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء
پاکستان میں تجارتی بنیادوں پر زیتون کی کاشت کے فروغ کے لیے جاری اقدامات کے تحت ملک کے 131 اضلاع میں 60 ہزار 456 ایکڑ رقبے پر 76 لاکھ 37 ہزار زیتون کے پودے لگائے جا چکے ہیں۔ زیتون کی کاشت بلوچستان، پنجاب، خیبرپختونخوا، آزاد جموں و کشمیر، سندھ، اسلام آباد اور گلگت بلتستان تک پھیل چکی ہے۔
ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات کے مطابق زیتون کی کاشت میں بلوچستان سرفہرست ہے، جہاں 31 اضلاع میں 24 ہزار 620 ایکڑ رقبے پر 31 لاکھ 99 ہزار 393 پودے لگائے گئے ہیں۔ پنجاب دوسرے نمبر پر ہے، جہاں 31 اضلاع میں 17 ہزار ایکڑ پر 22 لاکھ 35 ہزار 962 پودے لگائے جا چکے ہیں۔
خیبرپختونخوا میں 32 اضلاع کے 14 ہزار 690 ایکڑ رقبے پر 16 لاکھ 56 ہزار 499 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔ صوبے میں مختلف سرکاری منصوبوں اور نجی کاشت کے ذریعے زیتون کی پیداوار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد جموں و کشمیر میں ایک ہزار 542 ایکڑ پر 2 لاکھ 5 ہزار 929، سندھ میں 939 ایکڑ پر ایک لاکھ 29 ہزار 384، اسلام آباد کیپٹل ٹیریٹری میں 976 ایکڑ پر ایک لاکھ 17 ہزار 958 جبکہ گلگت بلتستان میں 690 ایکڑ پر 92 ہزار 296 زیتون کے پودے لگائے گئے ہیں۔
سرکاری منصوبوں کا کردار
سال 2012ء سے 2026ء کے دوران زیتون کی مجموعی شجرکاری میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا سب سے بڑا حصہ رہا۔ اس پروگرام کے تحت 37 ہزار 854 ایکڑ رقبے پر 50 لاکھ 29 ہزار 10 پودے لگائے گئے۔
دیگر منصوبوں میں اولیو ویلی اقدام کے تحت 13 لاکھ 20 ہزار 116، فائیو ملین اولیو پروگرام کے تحت 5 لاکھ 90 ہزار، پی آئی ڈی ایس اے کے ذریعے 5 لاکھ 80 ہزار 158 اور اولیوز ایکسپینشن پروگرام کے تحت 80 ہزار 637 پودے لگائے گئے۔ نجی شعبے کی جانب سے بھی 37 ہزار 500 پودے لگائے جانے کا اندراج ہے۔
دستاویز میں پاکستان میں زیتون کی کاشت کے لیے ممکنہ رقبے کا تخمینہ تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر لگایا گیا ہے۔ ملک کے مختلف علاقوں میں جنگلی زیتون کے لاکھوں پودوں کی موجودگی کو بھی اس شعبے کی توسیع کے ممکنہ وسائل میں شمار کیا گیا ہے۔
تیل نکالنے اور پراسیسنگ کی سہولیات
زیتون کی کاشت کو تجارتی شعبے میں تبدیل کرنے کے لیے ملک بھر میں زیتون کا تیل نکالنے کے 51 یونٹس نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں بلوچستان میں 23، خیبرپختونخوا میں 16، پنجاب میں 9، اسلام آباد میں 2 اور آزاد جموں و کشمیر میں ایک یونٹ شامل ہے۔
اس کے علاوہ زیتون کے شعبے کے لیے تین ویلیو ایڈیشن لیبارٹریاں، پھلوں کی پراسیسنگ کے چھ یونٹس، پانچ موسمیاتی اسٹیشن، پانچ نرسری ٹنلز اور چار قومی ریفرنس لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں۔ یہ ریفرنس لیبارٹریاں اسلام آباد، چکوال، ترناب اور کوئٹہ میں واقع ہیں۔
زیتون کے شعبے میں شجرکاری کے ساتھ پراسیسنگ اور معیار کی جانچ کے لیے بنیادی ڈھانچے کی توسیع سے مقامی سطح پر تیل کی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کی گنجائش پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم، دستیاب اعدادوشمار لگائے گئے پودوں اور سہولیات کی تعداد ظاہر کرتے ہیں؛ ان سے موجودہ تجارتی پیداوار یا ملکی طلب پوری ہونے کی شرح کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
زیتون کی کاشت، صوبہ وار رقبے، پودوں اور پراسیسنگ یونٹس کے اعدادوشمار ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات پر مبنی ہیں۔ لگائے گئے پودوں کی مجموعی تعداد کو بالغ اور پھل دینے والے درختوں یا سالانہ زیتون کے تیل کی پیداوار کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔ تجارتی پیداوار کا درست اندازہ لگانے کے لیے درختوں کی عمر، فی ایکڑ پیداوار اور تیل نکالنے والے یونٹس کی عملی استعداد سے متعلق اعدادوشمار بھی درکار ہیں۔
ماخذ: ویلتھ پاکستان کو دستیاب دستاویزات؛ فراہم کردہ اے پی پی خبر