

روزینہ اسماعیل, September 28,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء
وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں سالانہ 20 فیصد سے زائد ترقی ہو رہی ہے اور حکومت وزیراعظم کی جانب سے مقرر کردہ 25 ارب ڈالر کے برآمدی ہدف کے حصول کے لیے پرعزم ہے۔ ان کے مطابق نوجوانوں اور خواتین کی صلاحیتیں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کر رہی ہیں۔
پیر کو اسلام آباد میں ہواوے گلوبل سروس سینٹر کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو اور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 24 کروڑ آبادی میں 68 فیصد نوجوان ہیں، جبکہ ملک کی افرادی قوت میں خواتین کا حصہ تقریباً 50 فیصد ہے۔ ان کے بقول یہ انسانی وسائل پاکستان کے ڈیجیٹل سروسز کے شعبے کو عالمی منڈیوں میں مسابقت کے قابل بنا رہے ہیں۔
شزہ فاطمہ نے کہا کہ پاکستان کی معیشت بتدریج روایتی اشیا کی ترسیل اور کارگو پر مبنی برآمدات سے جدید، علم پر مبنی خدمات کی جانب منتقل ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آئی ٹی ماہرین دنیا کے مختلف خطوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
وفاقی وزیر کے مطابق صرف اسلام آباد میں تقریباً 2,500 پاکستانی انجینئرز مشرق وسطیٰ، افریقا اور لاطینی امریکا سمیت 100 سے زائد بین الاقوامی مارکیٹوں کے ٹیلی کام اور آئی ٹی نیٹ ورکس چلا رہے ہیں۔ انہوں نے اسے پاکستانی ٹیکنالوجی ماہرین کی عالمی سطح پر خدمات اور مہارت کی مثال قرار دیا۔
نوجوانوں کی تربیت اور ڈیجیٹل مہارتیں
شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تربیت دینے اور ملک میں ڈیجیٹل انقلاب کو تیز کرنے پر توجہ دے رہی ہے۔ ان کے مطابق 3 لاکھ طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کے پروگرام کے تحت 200 سے زائد پاکستانی جامعات میں جدید آئی سی ٹی اکیڈمیاں قائم کی جا چکی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان اکیڈمیوں سے تربیت حاصل کرنے والے 400 سے زائد پاکستانی ماہرین بیرون ملک بین الاقوامی مارکیٹوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مہارتوں اور عملی تربیت کے ذریعے نوجوانوں کے لیے عالمی سطح پر روزگار اور کاروباری مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
5G اور جدید ٹیلی کام انفراسٹرکچر
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی اور ٹیلی کام انفراسٹرکچر کے حوالے سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں حال ہی میں 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی مکمل کی گئی ہے، جس سے 5G اور مستقبل کی جدید ٹیکنالوجیز کے لیے بنیاد فراہم ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ تعاون کو صرف خدمات کی فراہمی تک محدود نہیں رکھنا چاہتی بلکہ پاکستان میں تحقیق و ترقی کے مراکز (آر اینڈ ڈی سینٹرز) کے قیام کو بھی فروغ دے رہی ہے۔
شزہ فاطمہ کے مطابق اس حکمت عملی کا مقصد پاکستانی نوجوانوں کو عالمی سطح کے اختراعی منصوبوں میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے مواقع فراہم کرنا اور ملک کو ڈیجیٹل خدمات کی عالمی منڈی میں مزید مؤثر مقام دلانا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے نوجوانوں کی تربیت، خواتین کی شمولیت، جدید ٹیلی کام سہولیات اور عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری اہمیت رکھتی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
آئی ٹی برآمدات میں 20 فیصد سے زائد سالانہ ترقی، 25 ارب ڈالر کے ہدف، تربیتی پروگراموں اور انجینئرز کی تعداد سے متعلق اعداد و شمار وفاقی وزیر شزہ فاطمہ خواجہ کے بیان کے مطابق شامل کیے گئے ہیں۔ خبر میں 25 ارب ڈالر کو حکومتی ہدف کے طور پر بیان کیا گیا ہے، حاصل شدہ برآمدات کے طور پر نہیں۔ 480 میگا ہرٹز اسپیکٹرم کی نیلامی اور تربیتی پروگراموں سے متعلق تفصیلات کی الگ سے آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
ماخذ:
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی)؛ وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ کا بیان