Latest news

بلوچستان کے سیاسی مسائل پر مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، سرفراز بگٹی

Spread the love

کاشف عباسی , September 28,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے کے سیاسی مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کے دروازے کھلے ہیں، تاہم ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے حالات کو سمجھنے کے لیے حقائق اور تصورات میں فرق کرنا ضروری ہے اور صوبے کے مسائل کا جائزہ تاریخی تناظر میں لیا جانا چاہیے۔

لاہور میں نیشنل سکول آف پبلک پالیسی کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ صوبے کا بنیادی مسئلہ پسماندگی نہیں بلکہ ان کے بقول ایک ’’غلط بیانیہ‘‘ ہے، جس کے باعث بلوچستان کی صورتحال کو درست طور پر سمجھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ پسماندگی پاکستان کے تمام صوبوں میں کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے، تاہم ان کے مطابق پسماندگی کو ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے یا ریاست کے خاتمے کے مطالبے کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرنے کا خواب کبھی پورا نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعلیٰ نے آئین کے آرٹیکل 5 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہر شہری سے ریاست کے ساتھ وفاداری کا تقاضا کرتا ہے۔

نوجوانوں سے رابطوں پر زور

وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ نوجوان نسل اور ریاست کے درمیان فاصلے کم کرنے کے لیے حکومت مختلف سطحوں پر نوجوانوں سے رابطے کر رہی ہے اور ان کے مسائل اور مؤقف سننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان کے مطابق بلوچستان کے مسائل کو محض عمومی تصورات کی بنیاد پر نہیں بلکہ تاریخی حقائق اور زمینی صورتحال کی روشنی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ غلط بیانیے کی بنیاد پر صوبے کے حالات کا درست تجزیہ ممکن نہیں۔

بلوچستان کے الحاق کا معاملہ

میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے معاملے پر بھی تاریخی حقائق کو مدنظر رکھنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خان آف قلات نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ بلوچستان کا الحاق ان کی رضامندی سے ہوا تھا۔

وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں سیاسی قوتوں کے ساتھ مذاکرات کی آمادگی کا اعادہ کیا، تاہم ریاست کے خلاف مسلح کارروائیوں میں ملوث عناصر کے ساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے خطاب میں بیان کردہ مؤقف پر مبنی ہے۔ بلوچستان کے سیاسی مسائل، ریاست کے ساتھ تعلقات اور الحاق کی تاریخ مختلف سیاسی و تاریخی مباحث کا موضوع رہے ہیں؛ اس لیے خطاب میں کیے گئے دعووں کو وزیر اعلیٰ سے منسوب کیا گیا ہے۔ خان آف قلات کی کتاب کا اصل متن اس خبر کی تیاری کے دوران الگ سے نہیں دیکھا گیا۔

ماخذ: صارف کی فراہم کردہ خبر؛ نیشنل سکول آف پبلک پالیسی میں خطاب سے متعلق فراہم کردہ تفصیلات