بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کا چوتھا اعلیٰ سطحی اجلاس: وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں اہم فیصلے منظور

منصور احمد,September 09,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 9 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے چوتھے اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کی، جس میں کمپنی کے انتظامی، مالی، اور عملی (آپریشنل) امور کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے متعدد بنیادی فیصلوں اور تجاویز کی منظوری دی گئی، جبکہ گزشتہ بورڈ اجلاس کے فیصلے توثیق کر کے نافذ العمل بنا دیے گئے۔

اجلاس کے دوران بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کی مجموعی کارکردگی، ادارے کے انتظامی ڈھانچے، ہوابازی کے عملی امور اور مستقبل کی جامع اسٹریٹجی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر کمپنی کی کارکردگی کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے، انتظامی امور کو زیادہ منظم و فعال کرنے، اور کمپنی کی آپریشنل استعداد کار میں خاطر خواہ اضافے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔

وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے بورڈ حکام کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کو جدید دور کے تقاضوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ کیا جائے اور اس کی انتظامی و آپریشنل صلاحیتوں میں ہر ممکن بہتری لائی جائے تاکہ یہ ادارہ وسیع الرقبہ صوبہ بلوچستان کے اندر اور باہر فضائی سفری سہولیات کی فراہمی میں اپنا کلیدی اور مثبت کردار ادا کر سکے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے متعلقہ حکام کو واضح احکامات دیے کہ کمپنی کے تمام مالی و انتظامی امور میں مکمل شفافیت، اعلیٰ درجے کے پیشہ ورانہ نظم و نسق، اور کڑی نگرانی کے نظام کو یقینی بنایا جائے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ہدایت کی کہ اجلاس میں منظور کیے گئے تمام اہم فیصلوں پر بلا تاخیر اور بروقت عمل درآمد کے لیے ایک موثر اور شفاف عملدرآمد میکنزم تیار کیا جائے۔

بورڈ کے اس اہم اجلاس میں چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، سیکرٹری خزانہ جہانگیر خان، ڈائریکٹر جنرل بلوچستان ایوی ایشن کمپنی کیپٹن علی آزاد، اور کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے تمام اراکین سمیت متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور ادارے کی ترقی کے لیے تجاویز پیش کیں۔

پاک فضائیہ کی خدمات، قربانیاں اور پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ناقابلِ فراموش باب ہیں: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی

کاشف عباسی , September 07,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے 7 ستمبر ‘یومِ فضائیہ’ کے موقع پر پاک فضائیہ کے شاہینوں، عظیم شہداء اور جری غازیوں کو زبردست خراجِ تحسین اور سلام پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وطنِ عزیز کی فضائی حدود کے دفاع میں پاک فضائیہ کی تاریخی خدمات، بے مثال قربانیاں اور اعلیٰ ترین پیشہ ورانہ صلاحیتیں قومی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش اور روشن باب ہیں۔

سرکاری خبر رساں ادارے ’اے پی پی‘ کے مطابق، کوئٹہ سے جاری کردہ اپنے خصوصی قومی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ نشانِ حیدر پانے والے سب سے کم عمر ہیرو راشد منہاس شہید سمیت پاک فضائیہ کے تمام جانبازوں نے دفاعِ وطن کی خاطر جرات، شجاعت اور قربانی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ ان بہادر سپوتوں کا عظیم ایثار اور خون آنے والی نسلوں کے لیے عزم، حوصلے اور حب الوطنی کا روشن استعارہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے پاک فضائیہ کی تاریخی اور حالیہ پیشہ ورانہ کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ہر مشکل گھڑی میں اپنی غیر معمولی پیشہ ورانہ مہارت، جدید جنگی صلاحیت اور بے مثال جرات کا مظاہرہ کر کے ملکی فضائی حدود کے دفاع کی شاندار روایت کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاک فضائیہ کی اس مؤثر اور قابلِ تحسین کارکردگی نے پوری قوم کا سر دنیا میں فخر سے بلند کیا اور ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستان کا فضائی دفاع مکمل طور پر محفوظ اور باصلاحیت ہاتھوں میں ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ 7 ستمبر کا دن محض ایک روایتی قومی دن نہیں بلکہ یہ قومی اتحاد، غیر متزلزل عزم اور وطن سے بے لوث وفاداری کے جذبے کی تجدید کا ایک خاص موقع ہے۔ پوری پاکستانی قوم اپنے شاہینوں کی فرض شناسی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور پاک فضائیہ پر بے پناہ فخر کرتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ملکی دفاع کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے شہداء قوم کے حقیقی ہیروز ہیں۔ ان کی لازوال قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں اور پوری قوم ان کے سوگوار اہل خانہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے دعائیہ کلمات ادا کرتے ہوئے شہداء کے درجات کی بلندی اور پاک فضائیہ کے غازیوں و موجودہ افسران و جوانوں کی مزید سربلندی اور کامرانی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

دو سالوں میں 133 ارب روپے کی منشیات تلف؛ نوجوان نسل کو اس ناسور سے بچانا حکومت کی اولین ترجیح

کاشف عباسی , September 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منشیات کے خاتمے کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہے۔ نوجوان نسل کو منشیات کی لعنت سے محفوظ بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل اور سخت اقدامات بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے اپنے ایک اہم بیان میں وزیر اعلیٰ بلوچستان نے بتایاکہ گزشتہ دو سال کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کامیاب اور موثر کارروائیوں کے نتیجے میں 133 ارب روپے سے زائد مالیت کی منشیات ضبط کر کے تلف کی جا چکی ہے، جو منشیات کے خلاف حکومت کے پختہ عزم اور اداروں کی بہترین کارکردگی کا واضح ثبوت ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں میں 1,638 کلوگرام آئس (کرسٹل) اور 620 کلوگرام چرس قبضہ میں لے کر تلف کی گئی، جبکہ دو سال کے عرصے میں 27 ہزار سے زائد غیر ملکی شراب اور بیئر کی بوتلیں اور کین بھی ضبط کر کے تلف کیے گئے۔

وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ منشیات کے خلاف جاری یہ مہم محض ایک قانونی اقدام نہیں بلکہ بلوچستان کی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی ایک جامع اور منظم جدوجہد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ منشیات کی ترسیل، فروخت اور استعمال میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی یقینی بنائی جائے گی تاکہ صوبے کو ایک محفوظ، صحت مند اور منشیات سے پاک معاشرہ بنایا جا سکے جہاں نوجوان اپنی توانائیاں تعلیم، ہنر، کھیل اور مثبت سرگرمیوں میں استعمال کر سکیں۔

کویٹہ میں سیف سٹی اتھارٹی کا اہم اجلاس: وزیرِ اعلیٰ سرفراز بگٹی کا سیکیورٹی اور ٹیکنالوجی کی بہتری کے لیے پنجاب سے تعاون حاصل کرنے کا اعلان

محمود احمد, August 24,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء

وزیرِ اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی صدارت میں بلوچستان سیف سٹی اتھارٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں امن و امان، جرائم کی روک تھام اور ٹیکنالوجی پر مبنی نگرانی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ سیف سٹی اتھارٹی امن و امان کے قیام، جرائم کی سرکوبی اور شہریوں کے تحفظ میں انتہائی مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔

اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے آئی جی پولیس محمد طاہر خان نے بتایا کہ سیف سٹی کے نگرانی کے جدید نظام کی مدد سے ملک بھر سے چوری کی گئی 138 گاڑیوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جبکہ 9 مشکوک سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی کے ذریعے دہشت گردی کی بڑی کارروائیوں کو ناکام بنایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اتھارٹی نے مختلف جرائم کے مقامات سے متعلق پولیس کو 631 اہم شواہد فراہم کیے جن سے ملزمان کی گرفتاری ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ 15 مددگار ایمرجنسی رسپانس سروس کو سی ٹی ڈی سے منسلک کر دیا گیا ہے تا کہ ہنگامی حالات میں بروقت ایکشن لیا جا سکے۔

وزیرِ اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے سیف سٹی اتھارٹی کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے اعلان کیا کہ بلوچستان میں اس نظام کی استعداد کار بڑھانے کے لیے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے تجربات اور تکنیکی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا، جس کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو باضابطہ مراسلہ بھیجا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سیکیورٹی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے صوبے کے دیگر اضلاع تک وسعت دی جائے تاکہ عوامی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کا باہمی رابطہ ضروری ہے: صدر آصف علی زرداری

کاشف عباسی , August 19,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن، تیز رفتار ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان مؤثر روابط اور یکجہتی کا ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بدھ کے روز ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوانِ صدر اسلام آباد میں وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ایک اعلیٰ سطحی ملاقات کے دوران کیا۔

ملاقات کے دوران صدرِ مملکت کو بلوچستان کی مجموعی امن و امان کی صورتحال اور صوبے بھر میں جاری مختلف عوامی و معاشی ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ صدر آصف علی زرداری نے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہونے کے ناطے بلوچستان خصوصی توجہ اور وسائل کا پورا حقدار ہے۔ انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں کی بلوچستان کی ترقی و خوشحالی میں رکاوٹ ڈالنے کی تمام تر ناپاک کوششوں کو ہر قیمت پر ناکام بنایا جائے گا، اور وہ دن دور نہیں جب صوبے سے دہشت گردی کا مکمل جڑ سے خاتمہ ہو جائے گا۔

اس اہم ملاقات کے موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی خواتین ونگ کی صدر فریال تالپور اور بلوچستان کے سابق صوبائی وزیر میر علی حسن زہری بھی موجود تھے۔

یومِ شہدائے پولیس: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا خراجِ تحسین، شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور ماتھے کا جھومر قرار دے دیا

منصور احمد, August 04,2026

کوئٹہ (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے پولیس کے شہدا کو قوم کا عظیم سرمایہ اور پاکستان کے ماتھے کا جھومر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وطن کے امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کی خاطر اپنی جانیں قربان کرنے والے بہادروں نے وفا، شجاعت اور فرض شناسی کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔

یومِ شہدائے پولیس کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ پولیس کے افسران اور جوانوں کی قربانیاں ہماری قومی تاریخ کا ایک روشن اور درخشندہ باب ہیں، جسے قوم ہمیشہ عزت، احترام اور فخر کے ساتھ یاد رکھے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچستان پولیس گزشتہ کئی سالوں سے دہشت گردی، انتہا پسندی اور جرائم کے خلاف پہلی صف میں برسرِ پیکار ہے اور پولیس کی انہی بے مثال قربانیوں کی بدولت آج صوبے میں امن و امان کی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوئی ہے اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک میں ملائے جا چکے ہیں۔

میر سرفراز بگٹی نے بالخصوص زیارت کے شہدائے پولیس کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان عظیم سپوتوں نے دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہوئے جرات، استقامت اور حب الوطنی کی ایسی نادر مثال قائم کی ہے جو ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔ انہوں نے زیارت کے شہدا کے اہلِ خانہ کے صبر اور قربانیوں کو زبردست سلام پیش کیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان نے شہدا کے ورثا کی عزت، فلاح و بہبود اور مالی معاونت کو اپنی بنیادی ریاستی ذمہ داری سمجھتے ہوئے متعدد عملی اقدامات کیے ہیں اور یہ سلسلہ مزید موثر انداز میں جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ شہدا کے بچوں کی معیاری تعلیم، صحت اور دیگر تمام ضروریات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

میر سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت بلوچستان پولیس فورس کی استعدادِ کار میں اضافے، جدید ترین تربیت، اسلحہ، حفاظتی سازوسامان، جدید ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے بھرپور سرمایہ کاری کر رہی ہے تاکہ فورس ہر قسم کے سیکیورٹی چیلنجز سے نبٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میں امن، قانون کی حکمرانی اور عوامی تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہدائے پولیس کے مقدس مشن کو ہر قیمت پر انجام تک پہنچایا جائے گا۔