
محمود احمد, September 29,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 29 ستمبر 2026ء
ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کو اپنا تیل فروخت کرنے سے روکا گیا تو خطے کے دیگر ممالک کی تیل کی برآمدات بھی متاثر ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی سلامتی کو یقینی نہ بنایا گیا تو خطے میں کوئی بھی بنیادی ڈھانچہ محفوظ نہیں رہے گا۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق باقر قالیباف نے منگل کو پارلیمان کے آن لائن اجلاس کی کارروائی شروع ہونے سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو محاصرے اور دھمکیوں سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے امریکہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر واشنگٹن اس بنیادی حقیقت کو نہیں سمجھتا تو اسے ایرانی قوم کی جانب سے بار بار سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
قالیباف کے بیان میں تیل کی تجارت اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطے کی سلامتی سے جوڑتے ہوئے کہا گیا کہ ایران کی تیل کی فروخت روکنے کی کوششوں کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے۔
ایرانی پارلیمانی اسپیکر نے کہا کہ اگر ایران اپنا تیل فروخت نہیں کر سکتا تو خطے میں کسی دوسرے ملک کو بھی تیل فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان کے بقول، ایران کی سلامتی یقینی نہ بنائی گئی تو کوئی بنیادی تنصیب محفوظ نہیں رہ سکے گی۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی، تیل کی تجارت اور خطے کی اہم بحری گزرگاہوں کی سکیورٹی بین الاقوامی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے اہم بحری راستہ ہے، جہاں کسی بھی طویل تعطل کے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے بھی امریکہ کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔
ابراہیم عزیزی نے اس سے قبل کہا تھا کہ ایران 40 روزہ جنگ سے بھی زیادہ سخت جنگ کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ ان کا بیان ایران کی جانب سے ممکنہ فوجی دباؤ کے مقابلے میں جوابی کارروائی کی تیاری کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
ایرانی قیادت کے حالیہ بیانات میں قومی سلامتی، تیل کی برآمدات اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے تحفظ کو اہمیت دی گئی ہے۔ تاہم قالیباف کے تازہ بیان میں کسی مخصوص ملک کی تنصیبات یا کسی فوری فوجی کارروائی کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
باقر قالیباف کا بیان ایران کے سرکاری مؤقف اور امریکی دباؤ کے تناظر میں ایک سیاسی و سکیورٹی انتباہ ہے۔ تیل کی برآمدات یا خطے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے سے متعلق ان کے الفاظ کو کسی عملی کارروائی کے اعلان یا اس کے وقوع پذیر ہونے کی تصدیق نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ ابراہیم عزیزی کا جنگ سے متعلق بیان بھی ان کے اپنے مؤقف کے طور پر رپورٹ کیا گیا ہے۔
ماخذ: فراہم کردہ خبر؛ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی سے منسوب بیانات۔