Latest news

ایف بی آر نے بجلی کمپنیوں کے اگست 2026 کے ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تاریخ بڑھا دی

Spread the love

کاشف عباسی , October01,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، کے الیکٹرک اور ان سے متعلق مخصوص ٹیکس دہندگان کے لیے اگست 2026 کے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کر دی ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق متعلقہ ٹیکس دہندگان اب اگست 2026 کے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ریٹرن 2 اکتوبر 2026ء تک جمع کرا سکیں گے۔ اس سے قبل ان گوشواروں کی وصولی کے لیے مقررہ مدت ختم ہو رہی تھی۔

ایف بی آر نے یہ فیصلہ سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 کے سیکشن 74 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے سیکشن 43 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے کیا ہے۔ توسیع کا مقصد متعلقہ ٹیکس دہندگان کو گوشوارے جمع کرانے کے لیے اضافی مہلت فراہم کرنا ہے۔

نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ اضافی مہلت ہر ٹیکس دہندہ کے لیے عمومی طور پر نہیں بلکہ مخصوص دائرہ کار میں آنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے ہے۔ اس سہولت کا اطلاق ان ٹیکس دہندگان پر ہوگا جو 14 جولائی 2026ء کے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر کے دائرہ کار میں شامل ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق توسیع سے فائدہ اٹھانے کے لیے متعلقہ ٹیکس دہندگان کے لیے یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ انہوں نے اپنی واجب الادا سیلز ٹیکس رقم مقررہ وقت کے اندر قومی خزانے میں جمع کرا دی ہو۔

اس طرح مقررہ شرائط پوری کرنے والے بجلی کے شعبے سے متعلق ٹیکس دہندگان کو اپنے اگست 2026 کے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز گوشوارے مکمل کرکے جمع کرانے کے لیے 2 اکتوبر تک اضافی وقت حاصل ہوگیا ہے۔

ٹیکس ماہرین کے مطابق ریٹرن جمع کرانے کی آخری تاریخ میں توسیع کا اطلاق صرف نوٹیفکیشن میں بیان کردہ مخصوص ٹیکس دہندگان پر ہوتا ہے، اس لیے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے اس مہلت کو عمومی توسیع تصور نہیں کیا جا سکتا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

ایف بی آر کی جانب سے دی گئی اضافی مہلت کا اطلاق بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں، کے الیکٹرک اور نوٹیفکیشن میں متعین مخصوص ٹیکس دہندگان پر ہوگا۔ متعلقہ ٹیکس دہندگان کے لیے اگست 2026 کے سیلز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ریٹرن جمع کرانے کی نئی آخری تاریخ 2 اکتوبر 2026ء مقرر کی گئی ہے، جبکہ واجب الادا ٹیکس کی بروقت ادائیگی اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی بنیادی شرط ہے۔

ماخذ:
فیڈرل بورڈ آف ریونیو، اے پی پی