

منصور احمد,October01,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 1 اکتوبر 2026ء
سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ نئے قوانین اور سروس رولز عمومی طور پر مستقبل کے معاملات پر لاگو ہوتے ہیں اور انہیں ماضی سے نافذ کرکے سرکاری ملازمین کی پہلے سے طے شدہ سنیارٹی، ترقی کے لیے اہلیت اور حاصل شدہ حقوق کو متاثر نہیں کیا جا سکتا، جب تک قانون میں واضح طور پر ماضی سے اطلاق کی ہدایت موجود نہ ہو۔
جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس عرفان سعادت خان پر مشتمل تین رکنی بینچ نے واپڈا کے اسسٹنٹ اسٹیشن اٹینڈنٹس کی سنیارٹی سے متعلق 25 سول پٹیشنز کا فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور واپڈا کی تمام درخواستیں خارج کر دیں۔
عدالت نے اپنے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ سنیارٹی اور ترقی کے لیے اہلیت ملازمین کے حاصل شدہ حقوق سے تعلق رکھتی ہے اور انہیں محض طریقہ کار کا معاملہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق نئے قواعد یا موجودہ قواعد میں ترمیم کے ذریعے پہلے سے طے شدہ سنیارٹی کو متاثر کرنا قانونی اصولوں کے مطابق نہیں۔
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ نئے قواعد عام طور پر مستقبل کے معاملات کے لیے ہوتے ہیں اور انہیں ماضی کی صورتحال یا پہلے سے حاصل شدہ حقوق میں مداخلت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے قرار دیا کہ قوانین کا مستقبل سے اطلاق سرکاری ملازمین کے حاصل شدہ حقوق کے تحفظ کے حوالے سے اہم اصول ہے۔
فیصلے کے مطابق واپڈا ہائیڈل جنریشن اسٹاف سروس رولز 2018 نافذ ہونے کے بعد اسسٹنٹ اسٹیشن اٹینڈنٹس کے لیے پہلے سے موجود مشترکہ سنیارٹی لسٹ کے بجائے آپریشنز اور مینٹیننس شعبوں کی الگ الگ سنیارٹی لسٹیں مرتب کی گئیں۔ اس تبدیلی کے نتیجے میں بعض ملازمین کی ترقی کے امکانات متاثر ہوئے جبکہ ان سے جونیئر بعض ملازمین کو ترقی مل گئی۔
متاثرہ ملازمین نے معاملہ وفاقی سروس ٹربیونل کے سامنے اٹھایا تھا۔ ٹربیونل نے قرار دیا تھا کہ 2018 کے نئے سروس رولز ان ملازمین پر مستقبل سے لاگو ہوں گے جو قواعد کے نفاذ کے بعد سروس میں شامل ہوئے، جبکہ قواعد کے نفاذ سے قبل تعینات ملازمین کی سابقہ مشترکہ سنیارٹی برقرار رہے گی۔
سپریم کورٹ نے وفاقی سروس ٹربیونل کے اس مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2018 کے قواعد کو ان ملازمین کی سنیارٹی تبدیل کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا جنہوں نے قواعد کے نفاذ سے قبل اپنی سنیارٹی حاصل کر لی تھی۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ پہلے سے طے شدہ سنیارٹی کو نئے قواعد کے ذریعے تبدیل کرنا ملازمین کی جائز توقعات اور حاصل شدہ حقوق کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔ عدالت کے مطابق موجودہ مقدمے میں وفاقی سروس ٹربیونل کے فیصلے میں مداخلت کی کوئی قانونی وجہ سامنے نہیں آئی۔
چنانچہ سپریم کورٹ نے واپڈا کی تمام 25 سول پٹیشنز خارج کر دیں اور اپیل کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد وفاقی سروس ٹربیونل کا فیصلہ برقرار رہا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا بنیادی اصول یہ ہے کہ نئے سروس رولز کو ماضی سے لاگو کرکے پہلے سے طے شدہ سنیارٹی یا حاصل شدہ حقوق تبدیل نہیں کیے جا سکتے، الا یہ کہ متعلقہ قانون میں اس کے برعکس واضح ہدایت موجود ہو۔ موجودہ مقدمہ واپڈا کے اسسٹنٹ اسٹیشن اٹینڈنٹس کی سنیارٹی اور 2018 کے سروس رولز کے اطلاق سے متعلق تھا۔
ماخذ:
سپریم کورٹ آف پاکستان،