

کاشف عباسی , August 04,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 4 اگست 2026ء
وفاقی وزیر برائے مواصلات عبدالعلیم خان نے انکشاف کیا ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا سالانہ ریونیو 64 ارب روپے سے دوگنا ہو کر 127 ارب روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ چکا ہے۔ اس غیر معمولی مالی خودمختاری کی بدولت پاکستان اب کسی بیرونی امداد یا قرض کے بغیر اپنے ذاتی قومی وسائل کے ذریعے ملک بھر میں موٹرویز اور جدید شاہراہوں کا نیٹ ورک کامیابی سے پھیلا رہا ہے۔
منگل کے روز نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس آڈیٹوریم اسلام آباد میں “یومِ شہدائے پولیس” کی پروقار تقریب سے بطور مہمانِ خاص خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے شجاع شہدا کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ 4 اگست ہماری قومی اور سیکیورٹی تاریخ کا انتہائی اہم اور درخشان دن ہے اور سی سی پی او پشاور صفوت غیور کی عظمت و شہادت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ موٹروے پولیس کے 59 شہدا سمیت تمام شہدائے پولیس کی عظیم قربانیاں قوم کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ موٹروے پولیس کے پٹرولنگ افسران کے تحفظ، آرام اور طبی امداد کے لیے ٹول پلازوں کے قریب جدید پولیس اسٹیشنز، پارکنگ اور فوری ایمبولینس سروسز بھی قائم کی جا رہی ہیں۔
وفاقی وزیر نے ملک گیر بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ کرتار پور اور ننکانہ صاحب کے مقدس مقامات کو اپس میں جوڑنے کے لیے تاریخی “گرو نانک ایکسپریس وے” پر کام تیزی سے جاری ہے جس سے دنیا بھر کی سکھ برادری کے لیے مذہبی سیاحت کو شاندار فروغ ملے گا۔ اسی طرح سیالکوٹ-کھاریاں-راولپنڈی شاہراہ کی تعمیر سے اسلام آباد تا لاہور کے سفر میں 100 کلومیٹر فاصلے اور ایک گھنٹے کے قیمتی وقت کی بچت ہوگی۔
عبدالعلیم خان نے مزید بتایا کہ مری ایکسپریس وے کی مظفرآباد تک توسیع سے آزاد کشمیر کو عالمی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی، جبکہ جدید موٹروے شاہراہِ قراقرم کا بہترین متبادل بن کر چین کے ساتھ پاکستان کے اسٹریٹجک و تجارتی روابط کو ناقابلِ تسخیر بنائے گی۔
تجارت اور علاقائی ترسیل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کراچی پورٹ سے تجارتی نقل و حمل کو تیز بنانے کے لیے M-10 اور لیاری ایکسپریس وے کو متحرک کر دیا گیا ہے، جبکہ M-6 موٹروے پر جلد باقاعدہ کام شروع ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بلوچستان میں M-8 منصوبوں کی تکمیل سے برادر ملک ایران کے ساتھ سرحدی تجارت کو زبردست تقویت ملے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گلگت کی سیاحتی سڑکوں پر کام جاری ہے جبکہ این-25 (N-25) شاہراہ کو اگلے سال تک مکمل کر لیا جائے گا۔