
کاشف عباسی , September 29,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 29 ستمبر 2026ء
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ افغانستان کے عوام اور وہاں قائم عبوری حکومت کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے، جسے دور کرنے کے لیے اتفاقِ رائے پیدا کرنا اور افغان عوام کو اپنے مستقبل کے انتخاب کا حق دینا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں پائیدار امن، علاقائی استحکام اور معاشی ترقی کے لیے ذمہ دارانہ طرزِ حکمرانی اور بنیادی حقوق کا احترام ناگزیر ہے۔
اسلام آباد میں ’’افغانستان کی صورتحال اور امن کی جانب پیش رفت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے مسئلے کے پُرامن حل کے لیے متعدد اعلیٰ سطحی وفود کابل بھیج چکا ہے، جبکہ اس سلسلے میں استنبول اور دوحہ میں بھی مذاکرات کیے گئے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ سوچ سے نکل کر ایک ذمہ دار ریاست کا طرزِ فکر اپنانا ہوگا۔ ان کے مطابق افغانستان کو درپیش متعدد مسائل کی جڑ عسکریت پسندانہ ذہنیت ہے، جبکہ شدت پسندوں اور کالعدم تنظیموں کے ارکان کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہیں۔
علاقائی تجارت اور رابطوں کے امکانات
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے سے نہ صرف افغان عوام کو فائدہ پہنچے گا بلکہ پورے خطے میں تجارت، سرمایہ کاری اور اقتصادی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان وسطی ایشیائی ریاستوں اور پاکستان کے درمیان ایک اہم تجارتی رابطہ بن سکتا ہے۔ افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کو گرم پانیوں تک رسائی ملنے سے علاقائی تجارت اور ٹرانسپورٹ روابط کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام پورے خطے کی معاشی ترقی کے لیے اہم ہے اور اس مقصد کے حصول کے لیے علاقائی تعاون اور سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہوگا۔
افغان عوام کے بنیادی حقوق پر زور
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، لیکن افغان خواتین کی بڑی تعداد افرادی قوت میں شامل نہیں اور معاشرے کے بعض طبقات کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے مناسب مواقع بھی میسر نہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان عوام کے بعض طبقات کو بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق افغان عوام کو تعلیم، اجتماع، انجمن سازی اور معاشی آزادی سمیت بنیادی حقوق حاصل ہونے چاہئیں اور انہیں اپنے مستقبل سے متعلق فیصلوں میں مؤثر آواز اور اختیار ملنا چاہیے۔
عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پُرامن بقائے باہمی کے لیے ’’خود بھی جیو اور دوسروں کو بھی جینے دو‘‘ کے اصول کو اپنانا ہوگا۔ ان کے بقول امن ہی خوشحالی کی بنیاد ہے اور افغانستان میں استحکام پورے خطے کے مفاد میں ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے خطاب اور ان سے منسوب بیانات پر مبنی ہے۔ افغان عبوری حکومت، افغانستان میں انسانی حقوق اور شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق باتیں وزیر کے مؤقف اور الزامات کے طور پر بیان کی گئی ہیں؛ انہیں اس خبر میں آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔
ماخذ: پریس کانفرنس:وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ