Latest news

افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسندوں کی موجودگی کا دعویٰ، پاکستان کا افغان حکومت سے کارروائی کا مطالبہ

Spread the love

منصور احمد,October12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان میں 20 ہزار سے زائد شدت پسند موجود ہیں، جبکہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے چھ ہزار سے زیادہ جنگجو افغان سرزمین پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے افغان حکام پر زور دیا کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

اسلام آباد میں انسدادِ دہشت گردی کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر منعقدہ ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان مختلف بین الاقوامی اور سفارتی فورمز پر یہ معاملہ اٹھاتا رہا ہے۔ ان کے مطابق اسلام آباد کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین پر شدت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کو روکے اور انہیں ایسے ٹھکانے استعمال نہ کرنے دے جہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا سکے۔

وزیر اطلاعات نے الزام لگایا کہ شدت پسند افغان سرزمین پر محفوظ مقامات پر موجود ہیں اور وہاں مختلف نوعیت کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ تاہم ان اعداد و شمار اور ٹھکانوں سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستان اور افغانستان کے مؤقف میں اختلاف

پاکستان ماضی میں بھی یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجو افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کرتے یا سرحد پار کارروائیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ دوسری جانب افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ ٹی ٹی پی پاکستان کا داخلی معاملہ ہے۔

یہ اختلاف دونوں ممالک کے تعلقات اور سرحدی سلامتی کے معاملات میں اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے اس کے خلاف حملوں کا سلسلہ روکا جائے، جبکہ افغان حکومت کی جانب سے ان الزامات کی تردید کے باعث اس معاملے پر دونوں فریقوں کے درمیان مؤثر تعاون ایک اہم چیلنج ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے مفاد میں ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر

کانفرنس سے خطاب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کو شدت پسندی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے، لیکن ریاستی ادارے اور عوام مل کر اس خطرے سے نمٹنے کے لیے پُرعزم ہیں۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک نے اس جدوجہد میں بھاری جانی نقصان اٹھانے کے ساتھ 100 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی برداشت کیا ہے۔

عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان نے شدت پسندی کے خلاف کارروائیوں کے ذریعے نہ صرف اپنی سلامتی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

تاہم وزیر اطلاعات کی جانب سے بیان کردہ معاشی نقصان اور شدت پسندوں کی تعداد کے اعداد و شمار کے حوالے سے فراہم کردہ متن میں کسی مخصوص رپورٹ یا تفصیلی اعداد و شمار کا حوالہ نہیں دیا گیا۔

علاقائی امن کے لیے سفارتی کوششوں پر زور

عطا اللہ تارڑ نے اپنے خطاب میں پاکستان کی سفارتی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے بھی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن و استحکام کے لیے مثبت سفارتی کوششیں جاری رکھنے کا خواہاں ہے۔

وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔

افغانستان میں شدت پسندوں کی موجودگی سے متعلق پاکستانی دعوؤں اور افغان طالبان حکومت کے مؤقف میں اختلاف کے باعث دونوں ممالک کے درمیان سکیورٹی تعاون، سرحدی انتظامات اور سفارتی رابطے آئندہ بھی اہم رہیں گے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

افغانستان میں شدت پسندوں اور ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی تعداد، ان کے مبینہ ٹھکانوں اور پاکستان کو ہونے والے معاشی نقصان سے متعلق اعداد و شمار وفاقی وزیر اطلاعات سے منسوب دعوے ہیں۔ فراہم کردہ متن میں ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلی دستاویزات شامل نہیں۔ افغان طالبان حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے، اس لیے دونوں فریقوں کے مؤقف میں فرق واضح رکھنا ضروری ہے۔

ماخذ: وزارتِ اطلاعات و نشریات اسلام آباد، پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ (PID) / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔