دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی قربانی؛ ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور جدید ٹیکنالوجی سے ابھرتے خطرات پر سفیر عاصم افتخار کی سلامتی کونسل کو وارننگ

روزینہ اسماعیل, September 12,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 12 ستمبر 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرناک رجحانات اور جدید ٹیکنالوجی کے تزویراتی استعمال کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کی اپنی بین الاقوامی حکمتِ عملی کو زیادہ مؤثر، جامع اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنائے اور موجودہ پابندیوں کے نظام میں موجود خلا کو فوری طور پر پر کرے۔

سلامتی کونسل میں “دہشت گرد کارروائیوں سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو لاحق خطرات: 9/11 کے پچیس برس بعد، سلامتی کونسل کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تجدید” کے عنوان سے منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 9/11 کے خوفناک حملوں میں جاں بحق ہونے والے تمام افراد، جن میں سات پاکستانی شہری بھی شامل تھے، کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور حکومت و عوامِ امریکہ کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا۔

پاکستانی مندوب نے 9/11 کے بعد قائم ہونے والے بین الاقوامی فریم ورک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں کے فوری بعد سلامتی کونسل کی تاریخی قرارداد 1373 کی منظوری نے عالمی انسدادِ دہشت گردی کے ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے القاعدہ کے خلاف آپریشنز، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور عالمی سیکیورٹی شراکت داری میں پاکستان کے تاریخی و کلیدی کردار کو نمایاں کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے فعال اقدامات نے القاعدہ کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کو یاد دہانی کرائی کہ اس طویل عالمی جنگ میں پاکستان نے بے پناہ اور سنگین قیمت ادا کی ہے۔ رواں صدی کے آغاز سے اب تک 90 ہزار سے زائد پاکستانی شہری، جن میں سیکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں بہادر اہلکار شامل ہیں، دہشت گردی کا شکار ہو کر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، جبکہ ملکی معیشت کو بھی اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ 25 برس قبل قائم کیا گیا سیکیورٹی ڈھانچہ اب جدید خطرات کے سامنے ناکافی ثابت ہو رہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خدشات نے دائیں بازو کی انتہاپسندی، افریقہ، مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان سے ابھرنے والے بحرانوں کی شکل اختیار کر لی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ تین برس کے دوران افغانستان سے آپریٹ ہونے والے کالعدم گروہوں کے حملوں میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری اور جوان شہید ہو چکے ہیں۔ اس تناظر میں انہوں نے ٹی ٹی پی بی ایل اے ای ٹی آئی ایم اور داعش جیسے عسکریت پسند گروہوں کے خلاف ٹھوس بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سفیر نے دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے کرپٹو کرنسیوں، ورچوئل اثاثوں، ڈارک ویب اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مالی معاونت اور بھرتیوں کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ضابطہ کاری کے بغیر یہ مسائل اور زیادہ پیچیدہ ہو جائیں گے۔

پاکستانی مندوب نے اپنے خطاب کے اختتام پر زور دیا کہ بین الاقوامی برادری غیر ملکی مقبوضہ علاقوں میں جاری ‘ریاستی دہشت گردی’ سے آنکھیں نہ چرا لے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ غاصب اور قابض قوتوں کو جواب دہ ٹھہرائے تاکہ وہ حقِ خودارادیت کی جائز اور قانونی جدوجہد کرنے والی اقوام کو تشدد کے ذریعے نہ دبا سکیں۔

بلوچستان میں ‘فتنة الہندوستان’ (بی ایل ایف) کی سفاکیت؛ آوران سے حاملہ خاتون روبینہ کے اغوا، زیادتی اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے درندوں نے سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع آوران سے بلوچستان کی بیٹی اور حاملہ خاتون روبینہ کو اغوا کے بعد شدید جنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق مقتولہ روبینہ کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو آوران کے علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی، جسے اکبر ولد غنی اور بی ایل ایف کے مسلح دہشت گردوں نے 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب اغوا کیا تھا اور چار دن تک محبوس رکھنے کے بعد لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ مقتولہ کے والد نے شدید غم و غصے اور دُہائی دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد حقوق کی جنگ لڑنے والی اس تنظیم نے ان کی معصوم اور حاملہ بیٹی پر یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ سیاسی و سماجی ماہرین اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کے ڈرامے رچانے والے یہ عناصر حقیقت میں بلوچ عوام اور وہاں کی خواتین کے کھلے دشمن ہیں جن کا بلوچ روایت، غیرت اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ درندے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔