

کاشف عباسی ,October05,2026
تھرپارکر (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے تھرپارکر میں پاکستان کے پہلے کوئلہ خشک کرنے والے یونٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تھر کی ترقی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کی ایک مثال ہے، جس سے ملک کے دیگر علاقوں میں بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
تھر کول بلاک ون میں افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ تھرپارکر میں انفراسٹرکچر، صحت، تعلیم، توانائی اور روزگار سمیت مختلف شعبوں میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔ ان کے مطابق تھر کی موجودہ صورتحال 1973 کے آئین اور 18ویں آئینی ترمیم کے تحت اختیارات کی منتقلی کے نتائج کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی سطح پر پالیسی سازوں کو تھر کے تجربے سے سیکھتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور اختیارات کی منتقلی کے ماڈل کو ملک کے دیگر حصوں میں فروغ دینا چاہیے۔ بلاول بھٹو کے مطابق تھر میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت بجلی کی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مقامی کوئلے کے استعمال سے درآمدی ایندھن پر انحصار اور زرمبادلہ کے اخراجات میں کمی آئی ہے۔
بلاول بھٹو نے دعویٰ کیا کہ تھر کے کوئلے کے استعمال سے پاکستان کو تقریباً 1.6 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی بچت ہو رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تھر کول منصوبوں میں روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں، جن میں 94 فیصد ملازمین سندھ سے جبکہ تقریباً 60 فیصد کا تعلق ضلع تھرپارکر سے ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے تھر کے نوجوانوں کی تعلیمی کامیابیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ مختلف اہم امتحانات میں علاقے کے طلبہ کی نمایاں کارکردگی اس بات کی علامت ہے کہ مناسب مواقع اور سہولیات فراہم کی جائیں تو دور دراز علاقوں کے نوجوان بھی قومی سطح پر اپنی صلاحیتیں ثابت کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تھر کے کوئلے کا استعمال اب صرف بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں رکھا جا رہا بلکہ کوئلے سے گیس اور کھاد کی تیاری سمیت دیگر شعبوں میں بھی اس کے استعمال کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ بلاول بھٹو نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ کوئلے سے کھاد تیار کرنے کے منصوبے پر کام تیز کیا جائے تاکہ پیداوار کو جلد مارکیٹ میں لایا جاسکے۔
انہوں نے سندھ کی کاروباری برادری اور ملک بھر کے سرمایہ کاروں کو صوبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے کراچی، سندھ کے ساحلی علاقوں اور دیگر خطوں میں بھی ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں سرمایہ کاری زون اور ٹھٹھہ کے کیٹی بندر میں بندرگاہ سمیت متعدد منصوبوں پر غور جاری ہے۔
اس موقع پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور صوبائی وزراء سمیت دیگر حکام بھی موجود تھے۔ بعد ازاں بلاول بھٹو زرداری نے تھر فاؤنڈیشن ہسپتال اور تھر کول بلاک ٹو کا دورہ کیا، جہاں انہیں کوئلے کی کان کی توسیع کے تیسرے مرحلے کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے مقامی ملازمین، طلبہ اور خواتین کارکنوں سے ملاقات کے علاوہ 100 ایکڑ پر مشتمل زرعی تحقیقی رقبے کا بھی معائنہ کیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
تھر کی ترقی، بجلی کی پیداوار، زرمبادلہ کی بچت اور روزگار سے متعلق اعداد و شمار خبر میں بلاول بھٹو زرداری اور متعلقہ حکام کے بیان کردہ اعداد کے طور پر شامل کیے گئے ہیں۔ ان اعداد و شمار کو آزادانہ طور پر دوبارہ شمار کرنے کے بجائے سرکاری بریفنگ اور بیانات کے تناظر میں رپورٹ کیا گیا ہے۔
ماخذ: ریڈیو پاکستان