

منصور احمد,October05,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نظرثانی درخواست دائر کرنے والے فریق کو واضح طور پر بتانا ہوگا کہ عدالتی فیصلے میں ایسی کون سی غلطی ہوئی ہے جس کی بنیاد پر اس فیصلے پر نظرثانی کی ضرورت پیش آئی۔
سپریم کورٹ میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی کیس میں ملزمان عبدالرحمان بھولا اور محمد زبیر چریا کی بریت کے خلاف دائر نظرثانی درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے درخواستوں پر سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس شکیل احمد نے استفسار کیا کہ نظرثانی درخواست گزار کو یہ بتانا ہوگا کہ عدالتی فیصلے میں کیا غلطی ہے جس کی بنیاد پر عدالت اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے۔
سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے سرکاری وکیل نے مزید دو ہفتے کا وقت مانگا، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کو مذاق نہ بنایا جائے اور پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو التواء کی درخواست خود بھجوانی چاہیے تھی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے سوال اٹھایا کہ التواء کی کوئی واضح وجہ کیوں نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ عام درخواست گزار اور ریاست، دونوں کے ساتھ یکساں سلوک کیا جائے گا۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اگر وکیل صبح پیش ہو کر دلائل دینا چاہتا ہے تو پیش ہو، بصورت دیگر عدالت چیمبر میں کیس کا ریکارڈ پڑھ کر فیصلہ بھی کر سکتی ہے۔
عدالت نے سرکاری وکیل کی جانب سے یہ مؤقف بھی مسترد کیا کہ انہیں کیس کی فائل موصول نہیں ہوئی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے ریمارکس دیئے کہ آج کے دور میں فائلیں ای میل اور واٹس ایپ کے ذریعے بھی منتقل ہوتی ہیں اور عدالت کو ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
جسٹس عقیل احمد عباسی نے بھی سرکاری وکیل کی جانب سے دو ہفتے کا وقت مانگنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ جب نظرثانی درخواست دائر کی گئی تو اب مزید دو ہفتوں کی مہلت کیوں درکار ہے۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ ریاست کی جانب سے کوئی بھی مجاز وکیل کیس کی پیروی کر سکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ریاست کی جانب سے دو ہفتے کی التواء کی درخواست مسترد کرتے ہوئے سماعت بدھ تک ملتوی کردی۔ عدالت نے واضح کیا کہ پراسیکیوٹر جنرل یا ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل میں سے جو بھی کیس میں پیش ہونا چاہے، آئندہ سماعت پر پیش ہو سکتا ہے، تاہم مزید التواء نہیں دیا جائے گا۔
سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس کراچی میں پیش آنے والے ایک بڑے صنعتی سانحے سے متعلق ہے، جس میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے تھے اور طویل قانونی کارروائی کے بعد معاملہ مختلف عدالتی مراحل سے گزرتا رہا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
سپریم کورٹ کے ریمارکس کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نظرثانی محض دوبارہ سماعت یا اضافی وقت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ درخواست گزار کو فیصلے میں موجود قابلِ نظرثانی غلطی کی واضح نشاندہی کرنا ہوتی ہے۔ عدالت نے موجودہ سماعت میں ریاست کی جانب سے مزید وقت طلب کرنے کی درخواست بھی مسترد کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مزید التواء نہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔
ماخذ: اے پی پی