Latest news

ایران کے خلاف جنگ میں کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے اور ڈرون تباہ یا متاثر: کانگریس کے بجٹ دفتر کی رپورٹ

Spread the love

محمود احمد, October09,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

امریکی کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق رواں سال ایران کے خلاف شروع کی گئی امریکی فوجی مہم “آپریشن ایپک فیوری” کے دوران کم از کم 81 امریکی فوجی طیارے، جنگی جہاز اور ڈرون تباہ یا نقصان کا شکار ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ان فضائی اثاثوں کے نقصان کی مالیت 1.9 ارب سے 3.3 ارب ڈالر کے درمیان تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 28 فروری کو شروع ہونے والی امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ آٹھویں مہینے میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ مستقل جنگ بندی تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ متاثرہ امریکی فضائی اثاثوں میں 12 ایف-15 ای اسٹرائیک ایگل لڑاکا طیارے، ایک ایف-35 اے لائٹننگ ٹو، سات کے سی-135 فضائی ایندھن بردار طیارے اور 45 ایم کیو-9 ریپر ڈرون شامل ہیں۔

سابق امریکی بحری افسر اور دفاعی تجزیہ کار ہارلن اُلمین کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرون بڑی فوجی طاقتوں کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں اور فوجی اثاثوں کو نشانہ بنا کر نقصان پہنچانے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ چھوٹے ڈرون بھی انتہائی قیمتی فوجی اثاثوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور حالیہ تنازع کے دوران خلیجی ممالک میں اس کی مثالیں سامنے آئی ہیں۔

ماہرین کے مطابق جنگ کی بدلتی ہوئی نوعیت نے روایتی فضائی برتری کو بھی چیلنج کر دیا ہے۔ روس اور یوکرین کی جنگ کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کم وسائل رکھنے والے ممالک بھی ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑی فوجی طاقتوں کو مؤثر نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

دوسری جانب جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ پر سیاسی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے۔ انتظامیہ نے مالی سال 2027ء کے لیے 1.5 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی درخواست کی ہے، تاہم کانگریس میں اس پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ماہ 45 ڈیموکریٹ سینیٹرز اور ایک آزاد رکن نے وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ کو خط لکھ کر جنگی اخراجات کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

کانگریس کے بجٹ دفتر کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق یکم اگست تک ایران کے ساتھ جنگ پر امریکی اخراجات تقریباً 38 ارب ڈالر تک پہنچ چکے تھے، جبکہ ادارے کا اندازہ ہے کہ تنازع جاری رہنے کی صورت میں ہر اضافی مہینے کی لاگت دو سے تین ارب ڈالر تک ہو سکتی ہے۔ پینٹاگون نے رپورٹ میں بیان کردہ نقصانات اور ان کے بجٹ پر ممکنہ اثرات کے بارے میں مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
کانگریس کا بجٹ دفتر ایک غیر جانبدار سرکاری ادارہ ہے جو امریکی قانون سازوں کو مالیاتی تخمینے فراہم کرتا ہے۔ رپورٹ میں دیے گئے نقصانات اور اخراجات اس ادارے کے تخمینے ہیں، جبکہ ایران کی کارروائیوں کی کامیابی سے متعلق رائے تجزیہ کار ہارلن اُلمین کی ذاتی رائے ہے اور آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔

ماخذ: کانگریس کے بجٹ دفتر کی رپورٹ کے حوالے سے فراہم کردہ میڈیا رپورٹ