Latest news

ایلون مسک کے الزامات پر ریلائنس کا جواب، ’’ہم مقابلے سے کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے‘‘

Spread the love

محمود احمد, October16,2026

نئی دہلی (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء

بھارت کے ارب پتی کاروباری شخصیت مکیش امبانی کی کمپنی ریلائنس انڈسٹریز نے امریکی کاروباری شخصیت ایلون مسک کے الزامات کے جواب میں کہا ہے کہ وہ مقابلے سے خوفزدہ نہیں ہوتی اور صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے لیے مسابقت کو اہم سمجھتی ہے۔ کمپنی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسک نے الزام عائد کیا تھا کہ ان کی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کی بھارت میں آمد کی راہ میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔

ایلون مسک نے اس معاملے پر مکیش امبانی کو طنزیہ انداز میں ’’وزیرِ اعظم امبانی‘‘ بھی کہا اور سوال اٹھایا کہ آیا اسٹارلنک کو بھارتی مارکیٹ میں منصفانہ مقابلے کا موقع دیا جائے گا یا نہیں۔ ان کے بیان نے بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ کی منظوری، ٹیلی مواصلات کے شعبے میں مسابقت اور مقامی و غیر ملکی کمپنیوں کے لیے یکساں قواعد کے معاملے کو دوبارہ توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔

ریلائنس انڈسٹریز نے جمعے کو جاری کردہ اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی کمپنیوں نے ایسے ماحول میں ترقی کی ہے جہاں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے ساتھ نئے خیالات اور عوام کی زندگی بہتر بنانے والے منصوبوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ کمپنی کے مطابق اس کاروباری ماحول کی بنیاد قانون کی حکمرانی اور درخواست گزاروں کے لیے یکساں طریقۂ کار پر ہے۔

ریلائنس کا مؤقف: قواعد سب کے لیے یکساں ہونے چاہییں

کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت واضح کر چکی ہے کہ سیٹلائٹ خدمات کے لیے درخواست دینے والی ہر کمپنی کے ساتھ ایک ہی طریقۂ کار اختیار کیا جاتا ہے، خواہ اس کا تعلق بھارت سے ہو یا کسی دوسرے ملک سے۔ ریلائنس نے اس سلسلے میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ جیو کی اپنی سیٹلائٹ سروسز کی درخواستیں بھی تاحال منظوری کی منتظر ہیں۔

اس مؤقف کے ذریعے کمپنی نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ اسٹارلنک کی ممکنہ آمد سے خوفزدہ ہے یا اسے بھارتی مارکیٹ میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاہم کمپنی کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اسٹارلنک کی منظوری کے عمل میں پیش آنے والی مخصوص رکاوٹوں کے بارے میں مسک کے الزامات کا ہر پہلو کس طرح حل ہوگا۔ اس معاملے پر متعلقہ سرکاری اداروں کی تفصیلی وضاحت اہم ہوگی۔

ریلائنس نے کہا کہ وہ مقابلے کو اس بات کا پیمانہ سمجھتی ہے کہ کون سی کمپنی صارفین کو بہتر خدمات فراہم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق کاروباری اداروں کی کامیابی کا اصل معیار صارفین کا اعتماد، خدمات کا معیار اور مناسب قیمتیں ہیں۔

جیو کی مثال دے کر مسابقت کا دفاع

اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے ریلائنس نے بھارتی ٹیلی کام مارکیٹ میں جیو کے آغاز کا حوالہ دیا۔ کمپنی کے مطابق جیو نے 2016 میں اس وقت مارکیٹ میں قدم رکھا تھا جب متعدد ٹیلی کام کمپنیاں پہلے سے کام کر رہی تھیں۔ ریلائنس کا کہنا ہے کہ اس وقت جیو کے پاس کوئی صارف نہیں تھا، لیکن تقریباً ایک دہائی میں اس کے صارفین کی تعداد 53 کروڑ سے تجاوز کر گئی۔

کمپنی نے دعویٰ کیا کہ جیو نے بھارتی عوام کو کم قیمت پر ڈیٹا اور وسیع ڈیجیٹل انفراسٹرکچر تک رسائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ریلائنس نے اپنی اس مثال کے ذریعے یہ مؤقف پیش کیا کہ مضبوط مسابقت کے باوجود نئی کمپنی بھی صارفین کا اعتماد حاصل کر سکتی ہے، بشرطیکہ وہ اپنی خدمات اور قیمتوں کے ذریعے مارکیٹ میں جگہ بنائے۔

تاہم جیو کی کامیابی کی مثال کو سیٹلائٹ انٹرنیٹ کے شعبے پر براہِ راست لاگو نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں شعبوں کی ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، سرمایہ کاری اور لائسنسنگ کے تقاضے مختلف ہو سکتے ہیں۔

اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ سروسز کا خیرمقدم

ریلائنس نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اسٹارلنک سمیت سیٹلائٹ مواصلات کے شعبے میں مقابلے کا خیرمقدم کرتی ہے۔ کمپنی کے مطابق جیو اور دیگر تمام اداروں کو بھارتی عوام کو خدمات فراہم کرنے کے مواقع ملنے چاہییں، لیکن اس کے ساتھ ہر کمپنی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ملک کے قوانین، قواعد اور پالیسیوں کی پابندی کرے۔

اسٹارلنک کی ممکنہ آمد بھارت میں ان علاقوں کے لیے اہم ہو سکتی ہے جہاں روایتی براڈبینڈ یا موبائل نیٹ ورک کی رسائی محدود ہے۔ سیٹلائٹ انٹرنیٹ دور دراز علاقوں میں رابطے کی سہولت بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم اس کی دستیابی، قیمت اور منظوری کا انحصار متعلقہ ضوابط اور کاروباری انتظامات پر ہوگا۔

اس تنازعے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ بھارت میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیوں کو کن شرائط کے تحت کام کرنے کی اجازت دی جائے گی اور کیا تمام درخواست گزاروں کے لیے قواعد کا اطلاق یکساں انداز میں ہوگا۔ ریلائنس نے یکساں ضابطوں اور مقابلے کی حمایت کی ہے، جبکہ مسک نے منظوری کے عمل پر اعتراض اٹھایا ہے۔ اب اس معاملے میں سرکاری وضاحت اور منظوری کے عمل میں ہونے والی پیش رفت اہم ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ریلائنس انڈسٹریز کا بیان کمپنی کا اپنا مؤقف ہے، جبکہ ایلون مسک کے اعتراضات الگ دعوے ہیں۔ دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ اسٹارلنک کو جان بوجھ کر روکا جا رہا ہے یا منظوری میں تاخیر کی کوئی مخصوص وجہ ہے۔ اس معاملے کی مکمل تصویر کے لیے بھارتی حکومت اور متعلقہ ٹیلی مواصلاتی اداروں کا مؤقف بھی ضروری ہے۔

ماخذ: ریلائنس انڈسٹریز کا بیان، ایلون مسک کے عوامی بیانات