

محمود احمد, September 19,2026
پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 19 ستمبر 2026ء
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران فرانس اور دیگر یورپی ممالک کو روس سے منسوب ہائبرڈ خطرات، سائبر حملوں، معلوماتی کارروائیوں اور ڈرون سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے۔ 18 ستمبر کو پیرس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے اہم ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میکرون نے واضح اور سخت الفاظ میں کہا کہ فرانس اور یورپ اپنے امن و امان کو نشانہ بنانے والے ایسے تخریبی اقدامات کو کسی صورت نظر انداز نہیں کریں گے اور ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
فرانسیسی صدر نے یورپی سلامتی کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے فرانسیسی حکومت کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ ملک کے اہم انفراسٹرکچر، دفاعی صنعتی و ٹیکنالوجیکل شعبے اور حساس ترین تنصیبات کو سائبر و ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے کے لیے ایک جامع و جدید سیکورٹی منصوبہ فوری طور پر تیار کرے۔ انہوں نے یکم ستمبر کو جرمنی کے لائپزگ ایئرپورٹ پر دھماکا خیز مواد سے لیس ڈرون کی مبینہ کوشش جیسے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے ان ہائبرڈ کارروائیوں کا بنیادی مقصد یورپی اقوام کو خوفزدہ کرنا اور یوکرین کے لیے ان کی امدادی کوششوں کو کمزور کرنا ہے، تاہم فرانس اپنی دفاعی پالیسی اور یوکرین کی مسلسل حمایت کے موقف سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ایمانوئل میکرون نے قوم پر زور دیا کہ دفاعی اور سکیورٹی اقدامات کی مضبوطی کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر لچک اور شہریوں کی پیشگی تیاری کو بھی یقینی بنانے کی شدید ضرورت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر روس سے منسوب ان تخریبی و ہائبرڈ سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع ہوتا ہے تو یورپی ممالک باہم متحد ہو کر اس کا سخت جواب دیں گے، جبکہ فرانس اپنی دفاعی صنعتی اور تکنیکی صلاحیتوں کو مزید ترجیحی بنیادوں پر ترقی دیتا رہے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فرانسیسی صدر نے لائپزگ ایئرپورٹ واقعے اور سائبر حملوں کو روس سے منسوب کیا ہے، جبکہ ماسکو حکام کی جانب سے ان تمام الزامات اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے کی باضابطہ تردید کی گئی ہے۔
ماخذ: بین الاقوامی و یورپ ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز پیرس۔