

محمود احمد, September 24,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء
امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے سائبر کرائم گروپ شائنی ہنٹرز کی جانب سے ادارے کے ہزاروں ملازمین اور ملازمت کے امیدواروں کی حساس معلومات چوری کرنے کے دعوے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ہیکرز نے تقریباً 38 ہزار افراد کا ڈیٹا حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم ایف بی آئی نے ابھی اس دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔
ایف بی آئی نے 23 ستمبر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اسے fbijobs.gov پورٹل کے ممکنہ سائبر حملے اور ایف بی آئی کے ملازمین کی ذاتی شناختی معلومات کے مبینہ متاثر ہونے سے متعلق دعوے کا علم ہے۔ ادارے کے مطابق اس وقت یہ واضح نہیں کہ مبینہ خلاف ورزی کا نقطۂ آغاز کسی تیسرے فریق کے نظام سے ہوا یا ایف بی آئی کے اپنے انفراسٹرکچر سے۔ ادارہ معاملے کی ’’فعال اور بھرپور‘‘ تحقیقات کر رہا ہے اور fbijobs.gov کو معاونت فراہم کرنے والے تیسرے فریق کے اداروں کے ساتھ بھی کام کر رہا ہے۔
شائنی ہنٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے پاس ایف بی آئی کے موجودہ اہلکاروں اور ادارے میں ملازمت کے لیے درخواست دینے والے افراد سمیت تقریباً 38 ہزار افراد کا ڈیٹا موجود ہے۔ مبینہ معلومات میں نام، عہدے، بیج نمبرز، فون نمبرز، گھریلو پتے اور اہلکاروں کے شریک حیات سے متعلق بعض معلومات شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان تمام تفصیلات کی مکمل آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
ہیکرز کے مطابق انہوں نے پیر کی رات ایف بی آئی کے نظام میں دراندازی کی اور اگلے روز صحافیوں سے رابطہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر حاصل کیے گئے ڈیٹا کے نمونے اور اسکرین شاٹس شیئر کیے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں مبینہ ڈیٹا کے محدود حصے کا جائزہ لینے کے بعد کہا گیا ہے کہ اس میں موجود کچھ معلومات بظاہر حقیقی معلوم ہوتی ہیں، تاہم اس سے پورے ڈیٹا سیٹ کے درست ہونے کی تصدیق نہیں ہوتی۔
رائٹرز کے مطابق مبینہ طور پر سامنے آنے والے بعض ریکارڈز میں ایف بی آئی اہلکاروں کی ذمہ داریوں اور تعیناتیوں سے متعلق معلومات بھی شامل ہیں۔ ان میں چینی جاسوسی نیٹ ورکس، روسی انٹیلی جنس سرگرمیوں اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائیوں جیسے حساس شعبوں سے متعلق معلومات ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم ان معلومات کی مکمل نوعیت اور دائرہ کار کے بارے میں ایف بی آئی کی جانب سے حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
سائبر سکیورٹی ماہرین کے مطابق اگر اتنی بڑی تعداد میں موجودہ یا سابقہ اہلکاروں اور ملازمت کے امیدواروں کی ذاتی معلومات واقعی افشا ہوئی ہیں تو اس کے اثرات صرف شناختی معلومات کے چوری ہونے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ متعلقہ افراد کی ذاتی سکیورٹی اور مستقبل کی تحقیقات پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
شائنی ہنٹرز ایک معروف بین الاقوامی سائبر کرائم گروپ کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ایف بی آئی کی اپنی سائبر سکیورٹی معلومات کے مطابق شائنی ہنٹرز سے منسلک گروہوں نے ماضی میں مختلف اداروں کے ڈیٹا کی چوری اور بلیک میلنگ کی کارروائیوں میں حصہ لیا ہے۔ امریکی ادارے نے اس گروپ سے وابستہ سابقہ سائبر سرگرمیوں کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔
موجودہ معاملے میں ایف بی آئی نے تاحال یہ نہیں بتایا کہ مبینہ طور پر کتنے افراد کا ڈیٹا حقیقتاً متاثر ہوا، کون سی معلومات یقینی طور پر چوری ہوئی ہیں یا حملہ آوروں نے ادارے کے کس حصے تک رسائی حاصل کی۔ اس لیے 38 ہزار افراد کا عدد فی الحال ہیکرز کے دعوے کے طور پر ہی بیان کیا جا رہا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ایف بی آئی نے سائبر واقعے اور ملازمین کی ذاتی معلومات کے ممکنہ متاثر ہونے کی تحقیقات کی تصدیق کی ہے، لیکن 38 ہزار افراد کا ڈیٹا چوری ہونے کے دعوے کی مکمل تصدیق نہیں کی۔ مبینہ طور پر سامنے آنے والے ڈیٹا کے کچھ حصے حقیقی معلوم ہونے کی اطلاعات ہیں، تاہم مکمل ڈیٹا سیٹ، چوری شدہ معلومات کی مقدار اور حملے کے اصل ذریعے سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔
ماخذ:
ایف بی آئی، رائٹرز، بی بی سی، امریکی سائبر سکیورٹی حکام۔