Latest news

پاکستانی فضائی حملوں پر افغانستان کا شدید احتجاج: کابل میں پاکستانی ناظم الامور طلب، سفارتی کشیدگی میں اضافہ

Spread the love

منصور احمد,September 24,2026

کابل (نیوز اینڈ نیوز) — 24 ستمبر 2026ء

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی اور فضائی کشیدگی میں ناگہانی اضافے کے بعد کابل میں افغان وزارتِ خارجہ نے پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے افغان فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی اور سرحد پار فضائی حملوں پر شدید ترین باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ افغان حکام کا موقف ہے کہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی یہ فوجی کارروائیاں افغانستان کی ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

یہ سفارتی پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے ایکس (ٹوئٹر) پر اعلان کیا کہ پاکستانی فضائی دفاعی نظام نے 23 ستمبر کو افغان علاقے سے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے 8 ڈرونز کو ناکارہ بنا دیا۔ اس کے جواب میں پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کا استعمال کرتے ہوئے افغان سرزمین پر موجود 10 ایسے مخصوص مقامات کو فضائی اور ڈرون حملوں سے نشانہ بنایا جو ڈرونز کی لانچنگ، ذخیرہ اندوزی اور دہشت گردانہ انفراسٹرکچر کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ دوسری جانب بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق افغان حکام نے پاکستانی کارروائی میں 4 عام شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، تاہم پاکستان نے اپنے حملوں کو صرف محدود اور مخصوص عسکری اہداف تک ہی محدود قرار دیا ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر افغان وزارتِ خارجہ کے باضابطہ بیان، پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات کے اعلان اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے اطلاعات کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار عسکریت پسندی اور ڈرون حملوں کے بیانات کو فریقین کے موقف کے مطابق شامل کیا گیا ہے۔

ماخذ: پاکستان وفاقی وزارتِ اطلاعات، افغان وزارتِ خارجہ، رائٹرز (Reuters) / نیوز اینڈ نیوز کابل و اسلام آباد ڈیسک۔