

محمود احمد, October24,2026
صنعا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
یمن کے حوثی گروہ نے دعویٰ کیا ہے کہ ہفتے کے روز سعودی عرب کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر کیے گئے فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ حوثیوں کے زیرِ انتظام ٹی وی چینل المسیرہ کے مطابق ایک حملے میں رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا، جہاں چار افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ایک علیحدہ حملے میں سیمنٹ فیکٹری کے ملازمین کی رہائشی عمارت متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں چھ خواتین اور ایک بچہ ہلاک ہو گیا۔
دوسری جانب سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب کے مختلف شہروں کی جانب داغے گئے دو میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ دونوں جانب سے سامنے آنے والے بیانات خطے میں جاری کشیدگی اور یمن میں دوبارہ شدت اختیار کرتی لڑائی کی عکاسی کرتے ہیں۔
صنعا میں رہائشی عمارتیں نشانہ بننے کی اطلاعات
حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صنعا میں ایک گھر پر فضائی حملے کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ایک اور حملے میں سیمنٹ فیکٹری میں کام کرنے والے افراد کی رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا گیا، جہاں چھ خواتین اور ایک بچہ جان سے گئے، جبکہ تین افراد زخمی ہوئے۔
ان اطلاعات کے مطابق مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 11 بتائی گئی ہے۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت، متاثرہ عمارتوں کی مکمل تفصیلات یا حملوں کے وقت وہاں موجود افراد کی تعداد کے بارے میں مزید وضاحت نہیں کی گئی۔
رہائشی عمارتوں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد شہریوں کی سلامتی اور ممکنہ انسانی نقصان کے حوالے سے تشویش پیدا ہو سکتی ہے۔ ایسے واقعات میں ہلاکتوں کی حتمی تعداد اور نقصان کی نوعیت کا تعین آزادانہ تصدیق اور مقامی امدادی اداروں کی معلومات سے ہی ممکن ہوتا ہے۔
سعودی اتحاد کا دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ
سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی جانب داغے گئے دو میزائلوں کو فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیا۔ تاہم بیان سے متعلق فراہم کردہ معلومات میں میزائلوں کے داغے جانے کے مقامات، ان کے ممکنہ اہداف یا تباہی کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی تفصیلات شامل نہیں۔
سعودی عرب اور یمن کے حوثی گروہ کے درمیان کشیدگی کے دوران میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے پہلے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے واقعات میں فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیاں اہم ہوتی ہیں، کیونکہ ان کا مقصد آبادیوں اور اہم تنصیبات کو ممکنہ حملوں سے محفوظ رکھنا ہوتا ہے۔
تاہم اس واقعے میں سعودی اتحاد کے بیان اور صنعا میں ہلاکتوں سے متعلق حوثیوں کے دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں موجود نہیں۔ دونوں دعوؤں کو متعلقہ فریقوں سے منسوب کرکے بیان کرنا ضروری ہے۔
2022 کی جنگ بندی کے بعد دوبارہ کشیدگی
یمن میں خانہ جنگی کئی برس تک جاری رہی، جس کے دوران ملک کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان، نقل مکانی اور بنیادی سہولتوں کی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ 2022 میں جنگ بندی کے بعد لڑائی میں بڑی حد تک کمی آئی تھی، تاہم تنازع مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور مختلف علاقوں میں کشیدگی برقرار رہی۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری وسیع تر کشیدگی کے پس منظر میں جولائی سے یمن میں لڑائی دوبارہ شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ حالیہ حملوں کے دعوے اسی تناظر میں سامنے آئے ہیں، اگرچہ ان واقعات اور خطے کے دیگر تنازعات کے درمیان براہِ راست تعلق کی تفصیلات واضح نہیں۔
یمن میں دوبارہ لڑائی بڑھنے سے شہری آبادی، امدادی سرگرمیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ خصوصاً رہائشی علاقوں میں حملوں کی اطلاعات کی صورت میں زخمیوں تک طبی امداد پہنچانا اور متاثرہ خاندانوں کی مدد کرنا اہم ضرورت بن جاتی ہے۔
شہریوں کا تحفظ اور آزادانہ تصدیق کی ضرورت
صنعا میں ہلاکتوں سے متعلق حوثیوں کے دعوے اور سعودی اتحاد کی جانب سے میزائل تباہ کرنے کی اطلاع کے بعد واقعے کے تمام پہلوؤں کی تصدیق اہم ہے۔ اس میں حملوں کے مقامات، متاثرہ عمارتوں کی نوعیت، ہلاکتوں کی تعداد اور میزائلوں کے ممکنہ اہداف سے متعلق معلومات شامل ہیں۔
جنگی حالات میں فریقین کی جانب سے جاری بیانات میں مختلف دعوے سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے ہلاکتوں اور نقصان سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنے کے لیے مقامی طبی ذرائع، امدادی اداروں اور قابلِ اعتماد آزاد ذرائع کی معلومات ضروری ہوتی ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
صنعا میں 11 افراد کی ہلاکت اور رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیرہ ٹی وی سے منسوب ہیں، جبکہ دو میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے کیا ہے۔ ان اطلاعات کی آزادانہ تصدیق اور واقعات کے مکمل حالات سے متعلق مزید تفصیلات دستیاب نہیں۔
ماخذ: المسیرہ ٹی وی، سعودی قیادت میں قائم فوجی اتحاد کے بیانات، یمن سے متعلق دستیاب اطلاعات