Latest news

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نافذ، صدارتی اعلان میں صوبائی حکومت کے اختیارات سے متعلق اہم احکامات

Spread the love

محمود احمد, October11,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 11 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات اور امن و امان کی سنگین صورتحال کو بنیاد بناتے ہوئے ایمرجنسی کے نفاذ کا صدارتی اعلان جاری کیے جانے کی اطلاع ہے۔ فراہم کردہ نکات کے مطابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232(1) اور 234(1) کے تحت فوری آئینی اقدام ضروری قرار دیا ہے۔

اعلان میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی شدت کے باعث شہریوں کی جان و مال کو خطرات لاحق ہیں۔ سرکاری تنصیبات، بنیادی ڈھانچے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ صدارتی اعلان سے منسوب متن میں صوبائی حکومت پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور لاقانونیت کی روک تھام کے لیے مطلوبہ اقدامات اور عزم کا مظاہرہ نہیں کر سکی۔

گورنر کی رپورٹ اور آئینی نظام سے متعلق مؤقف

فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق گورنر خیبر پختونخوا کی رپورٹ میں صوبے میں آئینی نظام کے تعطل اور صوبائی حکومت کے آئین کے مطابق کام کرنے میں ناکامی کی نشاندہی کی گئی۔ اسی بنیاد پر صوبے میں ہنگامی آئینی اقدام کی ضرورت ظاہر کی گئی ہے۔

اعلان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں صوبائی حکومت کو آئین کے مطابق چلانا ممکن نہیں رہا۔ تاہم یہ مؤقف صدارتی اعلان میں بیان کردہ وجوہات کی عکاسی کرتا ہے؛ صوبائی حکومت کا ردعمل اور متعلقہ دستاویزات کی مکمل تفصیلات بھی اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اہم ہوں گی۔

وفاقی حکومت اور گورنر کے ممکنہ اختیارات

فراہم کردہ اعلان کے مطابق وفاقی حکومت گورنر خیبر پختونخوا کو صوبائی حکومت کے تمام یا بعض امور اپنے اختیار میں لینے کی ہدایت دے سکے گی۔ گورنر وفاق کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریاں انجام دے سکیں گے اور وفاقی ہدایات کے تحت صوبائی اسمبلی کے علاوہ دیگر اداروں اور حکام کے بعض یا تمام اختیارات استعمال کیے جا سکیں گے۔

اعلان میں صوبائی اسمبلی کے اختیارات سے متعلق بھی شق شامل ہے، جس کے مطابق یہ اختیارات پارلیمان یا اس کے اختیار کے تحت استعمال کیے جائیں گے۔ اس انتظام کی عملی حدود اور قانونی اثرات کا تعین صدارتی اعلان کے مکمل متن اور آئینی تقاضوں کی روشنی میں ہوگا۔

وزیراعلیٰ اور صوبائی وزرا کے عہدوں سے متعلق حکم

فراہم کردہ نکات کے مطابق اعلان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی وزرا، مشیروں، معاونینِ خصوصی اور ایڈووکیٹ جنرل کو فوری طور پر اپنے عہدے چھوڑنے کا حکم بھی شامل ہے۔ اعلان کو فوری طور پر نافذ العمل قرار دیا گیا ہے۔

اس اقدام کے نتیجے میں صوبے کے انتظامی ڈھانچے، منتخب حکومت کے اختیارات اور وفاق و صوبے کے تعلقات پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اثرات کی حتمی قانونی حیثیت اور عمل درآمد کی تفصیلات باضابطہ سرکاری دستاویزات سے واضح ہوں گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر فراہم کردہ نکات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اس میں صوبائی حکومت کے خلاف عائد الزامات کو صدارتی اعلان سے منسوب مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے، آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق کے طور پر نہیں۔ اعلان کے اصل متن، آئینی دفعات اور متعلقہ سرکاری دستاویزات کی تصدیق کے بغیر تمام احکامات کی حتمی قانونی حیثیت کے بارے میں قطعی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔

ماخذ: فراہم کردہ صدارتی اعلان سے متعلق نکات