

منصور احمد,October07,2026
پیرس (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
عالمی توانائی منڈی میں سپلائی کے بڑھتے ہوئے خدشات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے پیشِ نظر انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے بورڈ آف گورنرز کا غیر رسمی اجلاس آج مقامی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے منعقد ہو رہا ہے، جس میں ہنگامی ذخائر سے خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے کی مجوزہ حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔
یورپی یونین کے دو سفارت کاروں کے مطابق یورپی ممالک کے نمائندے اس معاملے پر پہلے ہی ابتدائی مشاورت کر چکے ہیں۔ اجلاس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ عالمی منڈی میں سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے ہنگامی ذخائر سے کتنی مقدار میں تیل اور ڈیزل جاری کیا جا سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور دیگر عالمی جغرافیائی کشیدگی کے باعث توانائی کی ترسیل اور ریفائنری آپریشنز متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے ٹرانسپورٹ، زراعت اور صنعتی شعبوں کے لیے تشویش پیدا کی ہے۔
جی 7 کا 10 کروڑ بیرل جاری کرنے کا فیصلہ
گزشتہ ہفتے جی 7 ممالک نے ہنگامی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس فیصلے کے تحت توانائی کی عالمی منڈی میں اضافی رسد لانے اور قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
جی 7 نے توانائی کی برآمدات پر نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔ تاہم اب تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں کہ امریکہ اور یورپی ممالک اس مجموعی مقدار میں سے کتنی مقدار فراہم کریں گے اور مختلف اقسام کے ایندھن کا تناسب کیا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق آئی ای اے کی جانب سے آئندہ ہونے والی مشاورت میں اس منصوبے کی عملی تفصیلات واضح ہونے کی توقع ہے۔ اس سے قبل بھی آئی ای اے نے عالمی سپلائی میں بڑے خلل کے خدشے کے دوران رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر استعمال کرنے کے اقدامات کیے ہیں۔
عالمی توانائی منڈی میں موجودہ صورتحال کے باعث مارکیٹ میں یہ سوال اہم ہو گیا ہے کہ ہنگامی ذخائر سے تیل اور ڈیزل کا اجراء کس رفتار سے کیا جائے گا اور آیا یہ اقدام قیمتوں اور سپلائی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے کافی ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
آئی ای اے کا آج کا اجلاس ہنگامی ذخائر سے تیل اور ڈیزل جاری کرنے کی مجوزہ حکمت عملی پر غور سے متعلق ہے۔ جی 7 کی جانب سے 10 کروڑ بیرل جاری کرنے کا اصولی فیصلہ پہلے ہی سامنے آ چکا ہے، تاہم مختلف ممالک کی جانب سے فراہم کی جانے والی مقدار اور اجراء کی مکمل تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں۔
ماخذ: روئٹرز، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی، جی 7