Latest news

7 اکتوبر حملوں کی تیسری برسی، اسرائیل میں ایک منٹ کی خاموشی

Spread the love

محمود احمد, October07,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء

اسرائیل میں حماس کے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں کی تیسری برسی کے موقع پر ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی، جبکہ مختلف شہروں میں حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں یادگاری تقریبات بھی منعقد کی گئیں۔

7 اکتوبر 2023 کو ہونے والے حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے غزہ میں شروع کی گئی فوجی کارروائی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان اور تباہی ہوئی۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں اب تک 74 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ لاکھوں فلسطینی بے گھر ہوئے اور علاقے کے بڑے حصے میں رہائشی و بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق 7 اکتوبر 2023 کے حملے میں 1,100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جبکہ 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ منتقل کیا گیا تھا۔ ان حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ نے خطے کی سیاسی، انسانی اور سکیورٹی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے۔

برسی کے موقع پر اسرائیل کے مختلف علاقوں میں متاثرہ خاندانوں اور حملوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی یاد میں تقریبات منعقد کی گئیں۔ ملک میں ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی، جس کے دوران ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

ادھر غزہ میں جاری جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں بھی مظاہرے اور احتجاجی اجتماعات کیے گئے۔ مظاہرین نے غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور تباہی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ کے خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں بھی 7 اکتوبر کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں فجر کے وقت ایک یادگاری اجتماع منعقد ہوا، جس میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ شرکا نے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ہلاک ہونے والے افراد کی یاد تازہ کی۔

تین سال مکمل ہونے کے باوجود 7 اکتوبر 2023 کے واقعات اور اس کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے اثرات اسرائیل اور فلسطینی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی، سفارتی تعلقات اور انسانی صورتحال کو متاثر کرتے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
7 اکتوبر 2023 کے حملے اور اس کے بعد غزہ میں جاری جنگ کے جانی و انسانی اثرات کے اعداد و شمار مختلف ذرائع اور تاریخوں کے مطابق تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ اس خبر میں ہلاکتوں اور یرغمالیوں سے متعلق اعداد و شمار فراہم کردہ معلومات کے مطابق بیان کیے گئے ہیں اور مختلف فریقوں کے مؤقف کو الگ الگ رکھا گیا ہے۔

ماخذ: فراہم کردہ معلومات، متعلقہ سرکاری و بین الاقوامی رپورٹس