Latest news

ایران کے سیستان بلوچستان میں دو حملے، خواتین بسیج کمانڈر اور پولیس اہلکار ہلاک

Spread the love

محمود احمد, October15,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء

ایران کے جنوب مشرقی صوبے سیستان بلوچستان میں دو الگ الگ حملوں کے دوران خواتین بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ایک واقعے میں پولیس کی گاڑی کو مسلح افراد نے نشانہ بنایا، جبکہ دوسرے واقعے میں خواتین بسیج فورس کی کمانڈر افسانہ عقیلہ کو ان کے گھر کے باہر گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ضلع مہرستان میں مسلح افراد نے پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں سارجنٹ فرسٹ کلاس محمد علی شہریاری زخمی ہوئے، جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ رپورٹ کے مطابق حملہ آور کارروائی کے بعد موقع سے فرار ہو گئے۔

اسی سرحدی علاقے میں خواتین بسیج فورس ’’شہید افضل‘‘ کی کمانڈر افسانہ عقیلہ کو ان کی رہائش گاہ کے سامنے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ ان دونوں واقعات کے حوالے سے حملہ آوروں کی شناخت اور حملوں کے محرکات سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

خواتین سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ

حالیہ واقعات کے بعد سیستان بلوچستان میں حملوں کے دوران ہلاک ہونے والی خواتین بسیج اور پولیس اہلکاروں کی تعداد دو ہو گئی ہے۔ اس سے قبل 8 اکتوبر کو سیستان بلوچستان پولیس کمانڈ کی نائب ڈائریکٹر نصرت افتخاری زاہدان کے علاقے چشمہ زیارت روڈ پر سڑک کنارے نصب بم دھماکے میں ہلاک ہو گئی تھیں۔

صوبے میں حالیہ ہفتوں کے دوران مسلح جھڑپوں، پولیس چوکیوں پر حملوں اور گشتی گاڑیوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ سیستان بلوچستان ایران کا سرحدی صوبہ ہے، جہاں سکیورٹی فورسز کو مختلف مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور حملوں کا سامنا رہتا ہے۔

تازہ حملوں سے متعلق دستیاب اطلاعات میں کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔ حکام کی جانب سے حملہ آوروں کی شناخت، ممکنہ محرکات اور واقعات کے درمیان کسی تعلق کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ہلاکتوں اور حملوں کی تفصیلات ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم سے منسوب ہیں۔ حملوں کے ذمہ داروں اور ان کے محرکات کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں، اس لیے کسی گروہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ماخذ: ایرانی خبر رساں ادارہ تسنیم، ایرانی ذرائع ابلاغ