

منصور احمد,October24,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
ایران کی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کے صوبے سیستان و بلوچستان میں حالیہ بدامنی کے پیچھے دو عرب ممالک کے ملوث ہونے کے ’’واضح آثار‘‘ موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور علاقے میں جدید آلات اور ماہر اہلکار بھیجنے کے مبینہ معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے دونوں عرب ممالک کے نام ظاہر نہیں کیے اور نہ ہی اپنے الزام کے حق میں تفصیلی شواہد پیش کیے۔
فدا حسین مالکی نے ایرانی خبر رساں ادارے ایلنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگی حالات میں مسلح گروہوں کی سرگرمیوں اور سرحدی علاقوں میں بدامنی کی کوششوں کو صرف الگ تھلگ سکیورٹی واقعات کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ ان کے مطابق ان واقعات کے سیاسی، سماجی اور علاقائی پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ اس امکان کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ بیرونی عناصر موجودہ حالات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے ہوں۔
ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکام صوبے میں بڑھتے ہوئے سکیورٹی واقعات کو وسیع تر علاقائی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ تاہم دو عرب ممالک کی مبینہ مداخلت سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے اسے ایرانی رکنِ پارلیمان کا الزام ہی سمجھا جانا چاہیے۔
مہرستان میں دو حملے، خواتین کی بسیج کمانڈر اور پولیس اہلکار ہلاک
ایرانی میڈیا کی 12 اکتوبر کی اطلاعات کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے مہرستان میں دو الگ الگ حملوں کے دوران خواتین کی بسیج فورس کی ایک کمانڈر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ ان واقعات نے صوبے میں سکیورٹی صورت حال اور مسلح گروہوں کی سرگرمیوں سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق مسلح افراد نے مہرستان میں پولیس کی ایک گاڑی پر حملہ کیا۔ واقعے کے دوران ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔
ان واقعات کی مکمل تفصیلات، حملہ آوروں کی شناخت اور ان کے ممکنہ مقاصد کے بارے میں تمام معلومات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں۔ ایرانی حکام کے لیے ان حملوں کی تحقیقات میں یہ معلوم کرنا اہم ہے کہ آیا ان واقعات کے درمیان کوئی تعلق تھا یا یہ الگ الگ کارروائیاں تھیں۔
زاہدان میں سڑک کنارے بم دھماکا
مہرستان کے واقعات سے پہلے 8 اکتوبر کو سیستان و بلوچستان کے دارالحکومت زاہدان میں بھی ایک بم دھماکے کی اطلاع سامنے آئی تھی۔ ایرانی اطلاعات کے مطابق صوبائی پولیس کمان کے نائب سربراہ برائے ثقافتی و سماجی امور نصرت افتخاری زاہدان میں چشمہ زیارت جانے والے راستے پر سڑک کنارے نصب بم کے دھماکے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ واقعہ بھی صوبے میں سکیورٹی اہلکاروں کو درپیش خطرات کی ایک مثال کے طور پر سامنے آیا۔ سڑک کنارے نصب بموں اور پولیس کی گاڑیوں پر حملوں سے نہ صرف سکیورٹی اہلکاروں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے بلکہ عام شہریوں کی آمدورفت اور مقامی آبادی کے تحفظ سے متعلق خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
ایرانی حکام کو ان واقعات کے پس منظر، دھماکہ خیز مواد کی نوعیت اور حملہ آوروں کے ممکنہ نیٹ ورک سے متعلق شواہد اکٹھے کرنا ہوں گے تاکہ حملوں کی نوعیت اور ان کے درمیان کسی ممکنہ تعلق کا تعین کیا جا سکے۔
سیستان و بلوچستان میں سکیورٹی دباؤ میں اضافہ
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سیستان و بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلح جھڑپوں، پولیس چوکیوں اور گشت کرنے والی گاڑیوں پر حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ صوبے کی سرحدی جغرافیائی حیثیت اور اس کی سکیورٹی صورت حال کے باعث ایسے واقعات ایرانی حکام کے لیے اہم تشویش کا باعث ہیں۔
سیستان و بلوچستان ایران کے جنوب مشرق میں واقع ہے اور پاکستان و افغانستان کی سرحدوں کے قریب ہونے کے باعث علاقائی سلامتی کے معاملات میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہاں پیش آنے والے مسلح واقعات کے اثرات سرحدی نگرانی، مقامی آبادی کے تحفظ اور پڑوسی ممالک کے ساتھ سکیورٹی رابطوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
فدا حسین مالکی کے بیان میں بیرونی عناصر کے ممکنہ کردار کا ذکر ایسے وقت کیا گیا ہے جب صوبے میں متعدد حملوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔ تاہم ان واقعات کو کسی مخصوص بیرونی ملک یا تنظیم سے جوڑنے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد ضروری ہیں۔ فی الحال دونوں مبینہ عرب ممالک کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی اور نہ ہی ان ممالک کی جانب سے اس الزام پر کوئی ردعمل سامنے آنے کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔
تحقیقات اور علاقائی سلامتی پر توجہ
صوبے میں حالیہ حملوں کے بعد ایرانی حکام کے سامنے دو اہم چیلنجز ہیں: ایک طرف سکیورٹی اہلکاروں اور شہریوں کے تحفظ کو بہتر بنانا، اور دوسری جانب ان حملوں کے ذمہ داروں اور ممکنہ معاونین کی شناخت کرنا۔ اگر بیرونی مداخلت کے بارے میں کوئی قابلِ تصدیق شواہد سامنے آتے ہیں تو ان کی بنیاد پر مزید سفارتی یا سکیورٹی اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔
اس وقت دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ کہنا ممکن نہیں کہ مہرستان اور زاہدان کے واقعات کے پیچھے ایک ہی گروہ یا کوئی مشترکہ منصوبہ تھا۔ اسی طرح دو عرب ممالک کے ملوث ہونے کا دعویٰ بھی آزادانہ طور پر ثابت نہیں ہوا۔ آئندہ تحقیقات اور سرکاری بیانات اس معاملے کی مزید وضاحت کر سکتے ہیں۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دو عرب ممالک کے مبینہ کردار سے متعلق الزام ایرانی پارلیمان کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن فدا حسین مالکی سے منسوب ہے۔ انہوں نے ممالک کے نام یا تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے۔ مہرستان اور زاہدان میں حملوں سے متعلق اطلاعات ایرانی میڈیا کے حوالے سے بیان کی گئی ہیں؛ حملہ آوروں کی شناخت اور واقعات کے باہمی تعلق کی تصدیق کے لیے مزید معلومات درکار ہیں۔
ماخذ: ایلنا، تسنیم، ایرانی میڈیا رپورٹس