

محمود احمد, October31,2026
دوحہ (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء
ایران اور امریکہ کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے دوحہ میں جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عرب میڈیا ادارے العربی الجدید کے مطابق ایرانی نمائندوں اور قطری ثالثوں کے درمیان تقریباً 12 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست بات چیت کی بحالی پر اتفاقِ رائے پیدا ہو گیا ہے۔
رپورٹ میں ثالثی کے عمل سے قریبی تعلق رکھنے والے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وفد بھی ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے لیے دوحہ پہنچے گا۔ تاہم امریکی وفد کی آمد کے وقت، اس کے ارکان اور مذاکرات کے باضابطہ آغاز سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے قطر مسلسل کوششیں کر رہا ہے۔ دوحہ میں ہونے والی بات چیت کو دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
12 گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد پیش رفت
العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق ایرانی نمائندوں اور قطری ثالثوں کے درمیان طویل مشاورت ہوئی، جس میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر بات چیت کی گئی۔
ثالثوں کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں بات چیت کی بحالی کے لیے اتفاقِ رائے پیدا ہوا ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی وفد کی دوحہ آمد متوقع ہے تاکہ ایرانی نمائندوں کے ساتھ براہِ راست رابطہ ممکن بنایا جا سکے۔
اگر امریکی وفد اور ایرانی نمائندوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعطل ختم کرنے کی کوششوں میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔
تاہم ابھی تک مذاکرات کے ایجنڈے، ممکنہ معاہدے کی شرائط یا دونوں ممالک کے درمیان زیرِ بحث بنیادی اختلافات کے بارے میں مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
قطری ثالثوں کا وائٹ ہاؤس سے مسلسل رابطہ
دوسری جانب امریکی ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق دوحہ میں مذاکراتی عمل جاری ہے اور قطری ثالث اس دوران مسلسل وائٹ ہاؤس کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں۔
ایگزیوس کے نامہ نگار بارک راوید نے ایک سفارتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم قطری ثالثوں کے ہمراہ دوحہ واپس روانہ ہوئی ہے۔
اس پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قطر نہ صرف تہران کے ساتھ رابطے میں ہے بلکہ واشنگٹن کو بھی مذاکراتی عمل سے آگاہ رکھنے اور دونوں ممالک کے درمیان رابطے کا ذریعہ بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
قطر کی سفارتی سرگرمیوں کو اس لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست رابطوں کی بحالی کے لیے کسی ایسے ثالث کی ضرورت ہے جس کے دونوں فریقوں کے ساتھ سفارتی روابط موجود ہوں۔
ایران اور امریکہ کے اختلافات اب بھی اہم چیلنج
براہِ راست مذاکرات کی بحالی سے متعلق اطلاعات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان اختلافات بدستور اہم چیلنج ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سلامتی اور فوجی کشیدگی جیسے معاملات کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
ماضی میں بھی مختلف ممالک نے امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے بحال کرانے کی کوششیں کی ہیں، تاہم باہمی عدم اعتماد اور شرائط پر اختلافات کے باعث مذاکرات کو مشکلات کا سامنا رہا ہے۔
موجودہ کوششوں کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ دونوں ممالک مذاکرات کی میز پر کن شرائط کے ساتھ آتے ہیں اور کیا وہ اپنے اختلافات کم کرنے کے لیے عملی لچک دکھانے پر آمادہ ہوتے ہیں۔
خطے کے امن کے لیے سفارتی پیش رفت کی اہمیت
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ، خلیجی ممالک، عالمی توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔
خصوصاً آبنائے ہرمز اور خلیج فارس میں سلامتی کی صورتحال عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ کسی نئی فوجی کشیدگی سے توانائی کی قیمتوں اور سمندری تجارت میں مزید غیر یقینی پیدا ہو سکتی ہے۔
اسی تناظر میں دوحہ میں جاری قطری ثالثی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ اگر دونوں ممالک براہِ راست مذاکرات شروع کرنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں تو اس سے کشیدگی کم کرنے، جنگ بندی کے امکانات پیدا کرنے اور وسیع تر سفارتی حل کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
تاہم فی الحال سامنے آنے والی اطلاعات مذاکرات کی بحالی سے متعلق ہیں، کسی حتمی معاہدے یا اختلافات کے خاتمے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ آنے والے دنوں میں امریکی وفد کی آمد اور ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ ملاقاتوں سے اس سفارتی پیش رفت کی مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دوحہ میں مذاکرات کی بحالی اور امریکی وفد کی آمد سے متعلق معلومات العربی الجدید اور ایگزیوس کی رپورٹس اور سفارتی ذرائع پر مبنی ہیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے براہِ راست مذاکرات کے باضابطہ آغاز یا کسی حتمی معاہدے کی سرکاری تصدیق سامنے آنے تک اس پیش رفت کو سفارتی ذرائع سے منسوب اطلاعات کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
ماخذ: العربی الجدید، ایگزیوس، سفارتی ذرائع