

منصور احمد,October31,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 31 اکتوبر 2026ء
پاکستان میں مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی سرکاری اور کھلی مارکیٹ کی قیمتوں میں غیر معمولی فرق برقرار ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کو مقررہ سرکاری نرخوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رقم ادا کرنا پڑ رہی ہے۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے نومبر 2026ء کے لیے 11.8 کلوگرام گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 3 ہزار 470 روپے مقرر کی ہے، تاہم پاکستان بیورو آف شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق ملک میں یہی سلنڈر اوسطاً 6 ہزار 264 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
سرکاری نرخ اور مارکیٹ کی اوسط قیمت میں 2 ہزار 794 روپے کا فرق ہے، جو صارفین پر اضافی مالی بوجھ کی نشاندہی کرتا ہے۔ اوگرا کے مطابق نومبر کے لیے ایل پی جی کی فی کلو قیمت 294 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ اکتوبر میں یہی قیمت 279 روپے تھی۔ اس طرح فی کلو قیمت میں 15 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اوگرا کی جانب سے نومبر کے لیے مقرر کردہ گھریلو سلنڈر کی قیمت اکتوبر کے 3 ہزار 296 روپے کے مقابلے میں 173 روپے 86 پیسے زیادہ ہے۔ تاہم مارکیٹ میں دستیاب ایل پی جی کے نرخ سرکاری قیمت سے کہیں بلند ہیں، جس کی وجہ سے گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروبار متاثر ہو رہے ہیں۔
بڑے شہروں میں ایل پی جی کے نرخ
پاکستان بیورو آف شماریات کے تازہ ہفتہ وار جائزے کے مطابق مختلف شہروں میں 11.8 کلوگرام ایل پی جی سلنڈر کی قیمتیں درج ذیل ہیں:
- اسلام آباد: 6 ہزار 600 روپے
- راولپنڈی: 6 ہزار 500 روپے
- لاہور: 6 ہزار 185 روپے
- کراچی: 6 ہزار 185 روپے
- فیصل آباد: 6 ہزار 400 روپے
- پشاور: 6 ہزار 788 روپے
- حیدرآباد: 6 ہزار 185 روپے
- کوئٹہ: 6 ہزار 700 روپے
ان اعداد و شمار کے مطابق پشاور میں گھریلو سلنڈر کی قیمت سب سے زیادہ بتائی گئی ہے، جبکہ لاہور، کراچی اور حیدرآباد میں بھی صارفین کو 6 ہزار روپے سے زائد ادا کرنا پڑ رہے ہیں۔ چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بعض مقامات پر قیمتیں اس سے بھی زیادہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
مارکیٹ میں اوسطاً 6 ہزار 264 روپے فی سلنڈر قیمت کے حساب سے ایل پی جی تقریباً 531 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے، جبکہ اوگرا کا مقررہ نرخ 294 روپے فی کلو ہے۔ یوں فی کلو تقریباً 237 روپے کا فرق سامنے آتا ہے۔
درآمدی سپلائی میں تعطل قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجہ
اوگرا کی ترجمان کے مطابق ایل پی جی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی ایک بڑی وجہ درآمدی سپلائی میں تعطل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں استعمال ہونے والی تقریباً 70 فیصد ایل پی جی درآمد کی جاتی ہے، جبکہ باقی 30 فیصد مقامی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔
حالیہ ہفتوں میں پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی بندش کے باعث ایران سے ایل پی جی کی درآمد متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں ملکی مارکیٹ میں رسد کم ہو گئی۔ ذرائع کے مطابق ایران پاکستان کے لیے ایل پی جی کی درآمد کا ایک اہم ذریعہ ہے اور سرحدی تجارت میں رکاوٹ نے دستیابی پر اثر ڈالا ہے۔
جب درآمدی سپلائی متاثر ہوتی ہے تو مارکیٹ میں دستیاب گیس کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔ ایسی صورت میں طلب برقرار رہنے یا بڑھنے کے باعث قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے، جس کا براہِ راست بوجھ صارفین کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
عمان سے درآمدی کھیپ کے باوجود قیمتوں میں کمی نہ آ سکی
حکومت نے گزشتہ ہفتے عمان سے ایل پی جی کی ایک کھیپ درآمد کی تھی، جس کا مقصد مقامی مارکیٹ میں رسد بہتر بنانا اور قلت کے دباؤ کو کم کرنا تھا۔ تاہم مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کھیپ کے باوجود طلب اور رسد کے درمیان نمایاں فرق موجود ہے۔
توانائی شعبے کے ماہرین کے مطابق صرف ایک درآمدی کھیپ سے مارکیٹ کی مجموعی ضرورت پوری کرنا مشکل ہے، خصوصاً اس وقت جب مقامی پیداوار محدود ہو اور درآمدی ذرائع سے مسلسل فراہمی متاثر ہو رہی ہو۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت درآمدی سپلائی میں تسلسل پیدا کرنے، مقامی پیداوار بڑھانے اور مارکیٹ میں قیمتوں کی نگرانی مؤثر بنانے میں کامیاب نہ ہوئی تو صارفین کو آئندہ ہفتوں میں بھی مہنگی ایل پی جی خریدنا پڑ سکتی ہے۔
گھریلو صارفین پر اضافی مالی بوجھ
پاکستان کے ان علاقوں میں جہاں پائپ لائن کے ذریعے قدرتی گیس دستیاب نہیں یا اس کی فراہمی محدود ہے، وہاں ایل پی جی گھریلو ضروریات پوری کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ ایسے علاقوں میں کھانا پکانے اور دیگر بنیادی ضروریات کے لیے صارفین کو سلنڈر خریدنا پڑتا ہے۔
سرکاری اور مارکیٹ نرخوں میں موجود بڑے فرق کے باعث محدود آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایل پی جی کا استعمال مزید مہنگا ہو گیا ہے۔ چھوٹے ہوٹلوں، کھانے پینے کے کاروبار اور دیگر تجارتی سرگرمیوں کے اخراجات بھی گیس کی قیمتوں سے متاثر ہو سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں صارفین کی توجہ اس بات پر ہے کہ حکومت درآمدات معمول پر لانے کے لیے کیا اقدامات کرتی ہے اور اوگرا کے مقرر کردہ نرخوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مارکیٹ میں نگرانی کا نظام کس حد تک مؤثر بنایا جاتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: نومبر کے لیے اوگرا کی مقرر کردہ قیمت اور پاکستان بیورو آف شماریات کی رپورٹ کردہ مارکیٹ اوسط میں نمایاں فرق موجود ہے۔ درآمدی سپلائی میں رکاوٹ کو قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ بتایا گیا ہے، تاہم مارکیٹ میں مختلف شہروں کے نرخوں اور سرکاری قیمت پر عمل درآمد کی صورتحال کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔
ماخذ: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، پاکستان بیورو آف شماریات، اوگرا ترجمان، مارکیٹ ذرائع