Latest news

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے سوا کوئی آپشن نہیں تھا، اسحاق ڈار

Spread the love

منصور احمد,October12,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اکتوبر 2026ء

پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے پاس اس اقدام کے سوا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ انہوں نے سیاسی احتجاج اور دھرنوں کو ملکی معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات سے اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ دھرنوں اور احتجاج کے باعث معیشت کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وفاقی حکومت خیبر پختونخوا میں اپنے اقدامات کو امن و امان اور معاشی استحکام کے تناظر میں درست قرار دے رہی ہے۔

تاہم، ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کی آئینی بنیاد، اس کے دائرۂ کار اور سیاسی و انتظامی اثرات سے متعلق امور کی وضاحت کے لیے متعلقہ سرکاری نوٹیفکیشن اور قانونی تفصیلات اہم ہوں گی۔

افغانستان سے متعلق پاکستان کا مطالبہ

وزیر خارجہ نے اپنی تقریر میں افغانستان کی طالبان حکومت پر بھی تنقید کی۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کا افغانستان سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دی جائے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر دہشت گرد عناصر کی موجودگی خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔ ان کے مطابق افغان طالبان کو ایسے عناصر کی معاونت روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا چاہییں۔

اسحاق ڈار نے افغان طالبان سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گرد گروہوں کو اسلحے سمیت ہر قسم کی امداد فراہم کرنا بند کریں۔ پاکستان طویل عرصے سے افغانستان کی سرزمین سے ہونے والی مبینہ عسکریت پسند سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے، جبکہ سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کی روک تھام دونوں ممالک کے تعلقات میں اہم موضوعات ہیں۔

سیاسی استحکام اور علاقائی سلامتی پر زور

اسحاق ڈار کے خطاب میں ملکی سیاسی صورت حال، معاشی سرگرمیوں اور افغانستان سے متعلق سکیورٹی خدشات نمایاں رہے۔ ان کے مطابق احتجاج اور دھرنوں سے معیشت کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی علاقائی امن کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج جیسے اقدامات کی آئینی حیثیت اور سیاسی قبولیت کا تعین متعلقہ قانونی تقاضوں اور سرکاری دستاویزات کی روشنی میں کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور ان کی مبینہ معاونت سے متعلق الزامات کو بھی متعلقہ شواہد اور فریقین کے مؤقف کی بنیاد پر پرکھنا ضروری ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر اسحاق ڈار سے منسوب فراہم کردہ بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ افغانستان میں عسکریت پسندوں کی موجودگی اور انہیں معاونت فراہم کیے جانے سے متعلق باتیں پاکستانی وزیر خارجہ کے الزامات اور مؤقف کے طور پر بیان کی گئی ہیں؛ ان کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔

ماخذ: وزارتِ خارجہ اسلام آباد، انسٹی ٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (ISSI) / نیوز اینڈ نیوز اسلام آباد۔