

منصور احمد,October15,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 15 اکتوبر 2026ء
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کے لیے آئین میں درج طریقۂ کار پر عمل کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت نے سیاسی جماعتوں سے رابطے اور مفاہمت کی کوششیں کیں، جبکہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے صوبائی حکومت کا تعاون بھی طلب کیا گیا، تاہم یہ کوششیں کامیاب نہ ہو سکیں۔
جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ آئینِ پاکستان کی مختلف دفعات وفاقی حکومت کو مخصوص حالات میں صوبوں کے تحفظ اور امن و امان کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے اقدامات کا اختیار دیتی ہیں۔
انہوں نے آئین کے آرٹیکل 232 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت بعض حالات میں صدر مملکت ایمرجنسی نافذ کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق آئین میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صدر کی جانب سے اپنی صوابدید پر ایمرجنسی کے اعلان کو منظوری کے لیے دس روز کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے۔
اسحاق ڈار نے آرٹیکل 234 کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے تحت جاری کیے جانے والے اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا اعلان دو ماہ تک نافذ رہ سکتا ہے اور پارلیمنٹ اس کی مدت میں مزید دو، دو ماہ کی توسیع کر سکتی ہے، تاہم مجموعی مدت چھ ماہ سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔
نائب وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکلز 148 اور 149 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیرونی جارحیت اور اندرونی خلفشار کے خلاف صوبوں کا تحفظ کرے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت امن و امان، عوامی نظم و ضبط اور ملکی معیشت کو سنگین خطرات سے بچانے کے لیے صوبوں کو ضروری ہدایات بھی جاری کر سکتی ہے۔
سیاسی رابطوں اور مفاہمت کی کوششیں
اسحاق ڈار نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران وزیراعظم اور اپوزیشن رہنماؤں کی ملاقات، تمام سیاسی جماعتوں پر مشتمل سیاسی کمیٹی کے قیام اور قیدیوں کے قانونی حقوق سمیت طبی سہولتوں تک رسائی یقینی بنانے کے لیے مختلف تجاویز زیرِ غور آئیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے صورت حال پر تفصیلی غور کیا تھا اور حکومت ایمرجنسی نافذ کرنے کی خواہش مند نہیں تھی، تاہم مفاہمت کی کوششیں ناکام ہونے کے بعد حکومت نے متعلقہ اقدامات کو ضروری سمجھا۔ انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے مولانا فضل الرحمان کی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
خیبرپختونخوا کے مالی وسائل پر سوالات
نائب وزیراعظم نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سے اضافی ایک فیصد حصہ دیا گیا۔ ان کے تخمینے کے مطابق مالی سال 2010-11 سے اب تک اس رقم کی مالیت تقریباً 800 ارب روپے بنتی ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آیا صوبائی حکومت نے ان وسائل کو دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات اور فرانزک تحقیقات کی صلاحیت بڑھانے کے لیے مناسب طور پر استعمال کیا ہے یا نہیں۔
اسحاق ڈار نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی اپنائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مفاہمت کی جانب پیش رفت کے لیے سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنا ضروری ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اسحاق ڈار کا بیان وفاقی حکومت کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔ گورنر راج اور ایمرجنسی آئینی طور پر الگ اقدامات ہیں، جن کی قانونی بنیاد، طریقۂ کار اور منظوری کی شرائط متعلقہ آئینی دفعات کے مطابق دیکھی جاتی ہیں۔ کسی اقدام کے آئینی جواز کا حتمی تعین متعلقہ قانونی دستاویزات اور عدالتی تشریح کی روشنی میں کیا جا سکتا ہے۔
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب