
محمود احمد, September 25,2026
شمالی غزہ (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء
اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی غزہ میں ایک فوجی ڈرون کے حادثاتی طور پر گرنے اور بعد ازاں دھماکے کے نتیجے میں دو ریزرو فوجی ہلاک ہو گئے۔ فوج نے واقعے کو حفاظتی نوعیت کا حادثہ قرار دیتے ہوئے اس کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق یہ واقعہ 24 ستمبر کو شمالی غزہ میں ایک فوجی چوکی کے اندر پیش آیا۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق فوجی اہلکار ایک چھوٹے ڈرون کو آپریٹ کر رہے تھے۔ اس کی پہلی پرواز کامیابی سے مکمل ہوئی، تاہم دوسری پرواز کے دوران ڈرون نامعلوم وجہ سے فوجی چوکی کے اندر گر کر تباہ ہو گیا۔
فوج کے مطابق حادثے کے بعد دونوں اہلکار ڈرون کا جائزہ لینے کے لیے اس کے قریب گئے اور اسے اٹھایا۔ کچھ دیر بعد ڈرون پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں دونوں فوجی شدید زخمی ہوئے۔ انہیں اسرائیل کے شہر اشکلون کے برزیلائی میڈیکل سینٹر منتقل کیا گیا، جہاں ان کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔ اسرائیلی فوج نے ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی شناخت ماسٹر سارجنٹ ریزرو ناداو کالی اور ماسٹر سارجنٹ ریزرو اوفیک موالم کے طور پر کی ہے۔
اسرائیلی فوج کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق حادثے کی بنیادی وجہ ابھی واضح نہیں ہوئی۔ فوج نے واقعے کی مکمل تحقیقات کے لیے ایک ماہر تحقیقاتی ٹیم تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے، جس کی سربراہی بریگیڈیئر جنرل سطح کے افسر کریں گے۔ تحقیقات کا مقصد حادثے کے حالات کا تعین کرنا اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات تجویز کرنا ہے۔
واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے چھوٹے ڈرونز کی پروازیں عارضی طور پر روک دی ہیں۔ فوج کے مطابق اس پابندی میں ایسے ڈرون بھی شامل ہیں جو خود دھماکے کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور وہ ڈرون بھی جو ہدف پر دھماکہ خیز مواد گرا سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ ابتدائی تحقیقات مکمل ہونے تک نافذ رہے گا۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں فوجی 7007 بٹالین سے وابستہ تھے۔ فوج نے کہا ہے کہ واقعے کی مزید تفصیلات تحقیقات مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گی۔ فی الحال ڈرون کے گرنے اور اس کے بعد دھماکے کی حتمی وجہ کا تعین نہیں کیا گیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر اسرائیلی فوج اور دستیاب اسرائیلی ذرائع کی جانب سے فراہم کردہ ابتدائی معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ ڈرون کے حادثے کی حتمی وجہ ابھی تحقیق کے مرحلے میں ہے، اس لیے اسے فی الحال ابتدائی فوجی تحقیقات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: اسرائیلی فوج سے متعلق رپورٹنگ، Times of Israel اور Jerusalem Post۔