
منصور احمد,September 25,2026
راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 25 ستمبر 2026ء
پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے پارٹی کارکنوں اور حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اڈیالہ جیل کے باہر مارچ یا احتجاج کرنے سے گریز کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ جیل کے قریب کسی اجتماع کو جواز بنا کر ممکنہ کارروائی کی جا سکتی ہے، جس سے ان کے والد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
قاسم خان نے جمعرات کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں عوام سے اپیل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 27 ستمبر کو اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا احتجاج کرنے کی کوشش نہ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اپنے ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ احتجاج کو جواز بنا کر اسٹیبلشمنٹ جیل پر ’’جوابی‘‘ حملہ کر سکتی ہے، جہاں عمران خان قید ہیں۔ قاسم خان کے مطابق ایسی کسی کارروائی سے ان کے والد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کارکنوں سے اپیل کی کہ وہ ایسا کوئی موقع یا بہانہ فراہم نہ کریں جس کی آڑ میں احتجاج کے دوران عمران خان کے ساتھ کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آئے۔
قاسم خان کے بیان میں ممکنہ حملے سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم انہوں نے ان اطلاعات کے حق میں کوئی قابلِ تصدیق شواہد پیش نہیں کیے۔ حکومت یا سکیورٹی اداروں کی جانب سے بھی اس مخصوص دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
27 ستمبر کے احتجاج کی تیاری
پاکستان تحریک انصاف نے عمران خان کی رہائی اور دیگر مطالبات کے حق میں 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج اور لانگ مارچ کی کال دے رکھی ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق احتجاج کا مقصد عمران خان کی رہائی کے مطالبے کو اجاگر کرنا ہے۔
تحریک انصاف کے قائم مقام چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پہلے کہا تھا کہ احتجاج کا مقصد اڈیالہ جیل کے دروازے توڑنا یا دارالحکومت پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھانا ہے۔
احتجاج سے قبل اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکیورٹی انتظامات سخت کیے جا رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے شہر کے داخلی اور خارجی راستوں سمیت اہم شاہراہوں کے اطراف کنٹینرز پہنچا دیے ہیں، جنہیں ضرورت پڑنے پر ٹریفک کی آمدورفت روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اسلام آباد میں داخلے اور ریڈ زون سے متعلق اقدامات
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے احتجاج سے قبل پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں کسی کو بھی اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
حکام کی جانب سے احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی سکیورٹی اقدامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار کے مطابق ریڈ زون کو 27 ستمبر سے پہلے مکمل طور پر بند کرنے کی تیاری ہے۔
ریڈ زون میں ڈپلومیٹک انکلیو کے علاوہ وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سمیت اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔
قاسم خان کی اپیل ایسے وقت سامنے آئی ہے جب تحریک انصاف کی احتجاجی کال، انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی اقدامات اور عمران خان کے اہل خانہ کی گرفتاریوں کے باعث سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ ان کی اپیل خاص طور پر اڈیالہ جیل کے قریب اجتماع سے متعلق ہے؛ اسے پارٹی کے اعلان کردہ وسیع تر احتجاج کی منسوخی کا اعلان نہیں کہا جا سکتا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اڈیالہ جیل پر ممکنہ ’’جوابی‘‘ حملے اور عمران خان کی جان کو خطرے سے متعلق باتیں قاسم خان کے بیان کردہ خدشات اور دعوے ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ احتجاج کے انتظامات اور اسلام آباد میں داخلے سے متعلق پابندیوں کی تفصیلات متعلقہ حکام کے اعلانات سے مشروط ہیں۔
ماخذ: قاسم خان کا ایکس پر بیان، ہم نیوز، ہم انگلش، بزنس ریکارڈر، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے منسوب بیان۔نیوز اینڈ نیوز