Latest news

امریکی کانگریس سے اہم قانون منظور: روسی تیل خریدار ممالک پر 100 فیصد اضافی ٹیرف کا صدارتی اختیار حاصل

Spread the love

محمود احمد, September 18,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء

امریکی کانگریس نے روس پر اقتصادی دباؤ مزید سخت کرنے اور اس کی توانائی سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم قانون منظور کر لیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو روسی خام تیل یا قدرتی گیس خریدنے والے ممالک سے آنے والی مصنوعات پر 100 فیصد تک اضافی ٹیرف عائد کرنے کے وسیع اختیارات تفویض کر دیے گئے ہیں۔ روسی ایندھن کے دو سب سے بڑے خریدار ہونے کے ناطے بھارت اور چین اس نئی قانون سازی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہیں۔

امریکی ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) نے ‘لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026’ (Lindsey O. Graham Sanctioning Russia and Iran Act of 2026) کو 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا۔ اس سے قبل امریکی سینیٹ نے 7 اگست کو اس بل کی منظوری 86 کے مقابلے میں 11 ووٹوں سے دی تھی۔ بل کے تحت روسی حکام، مالیاتی اداروں، توانائی کے شعبے اور روسی تیل کی غیر قانونی نقل و حمل میں ملوث بحری جہازوں کے خلاف سخت پابندیاں شامل کی گئی ہیں، جبکہ ایران سے متعلق تعزیرات کے قانونی دائرہ کار کو بھی توسیع دی گئی ہے۔

ایس اینڈ پی گلوبل (S&P Global) کی اعداد و شمار کے مطابق اگست میں بھارت نے 16 لاکھ بیرل یومیہ اور چین نے 11 لاکھ بیرل یومیہ کے ساتھ روسی خام تیل خریدا تھا، جس کے باعث دونوں ممالک پانچ بڑے خریداروں کی فہرست میں سرفہرست آتے ہیں۔ بل پاس ہونے کے فوری بعد بھارت نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ روسی تیل پر اضافی ٹیرف سے دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات اور عالمی توانائی کی منڈی کا توازن بگڑ سکتا ہے، تاہم نئی دہلی اپنی قومی توانائی کی ضروریات کے تحفظ سے ہرگز دستبردار نہیں ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر امریکی کانگریس کے باضابطہ قانون سازی کے ریکارڈ، ایس اینڈ پی گلوبل کے ڈیٹا اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کی میدانی رپورٹس کی روشنی میں تدوین کی گئی ہے۔

ماخذ: انٹرنیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز واشنگٹن۔