Latest news

محمود آباد میں کے ایم سی کا تجاوزات کے خلاف بڑا آپریشن، نالوں کی صفائی اور ٹریفک بحالی کے لیے بھاری مشینری استعمال

Spread the love

محمود احمد, September 28,2026

کراچی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 ستمبر 2026ء

کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے محکمۂ اینٹی اینکروچمنٹ نے میئر کراچی کی خصوصی ہدایت پر شہر کے گنجان آباد علاقے محمود آباد اور اس سے ملحقہ نالے کی اراضی پر قائم غیر قانونی تجاوزات کے خلاف ایک بڑا آپریشن کیا ہے۔ کارروائی کے دوران بھاری مشینری اور بلڈوزرز کی مدد سے نالے کی حد بندی، فٹ پاتھوں اور مرکزی سڑک پر دکانوں کے آگے بنائے گئے تھڑوں، شیڈز، پکے مکانات اور کچی تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

عملیاتی ذرائع کے مطابق یہ کارروائی بلدیاتی انتظامیہ کی خصوصی ہدایات پر کی گئی تاکہ متوقع بارشوں کے پیشِ نظر نالوں کے قدرتی بہاؤ کی رکاوٹیں دور کی جا سکیں اور علاقے میں روزمرہ کے شدید ٹریفک ازدحام کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ کے ایم سی حکام کے مطابق محمود آباد نالے کے اطراف اور مرکزی شاہراہ پر قائم تجاوزات کی وجہ سے شہریوں کو پیدل چلنے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت میں سخت دشواری کا سامنا تھا، جبکہ نالوں کی صفائی کا کام بھی شدید متاثر ہو رہا تھا۔

آپریشن کے دوران کسی ناخوشگوار واقعے یا مزاحمت سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ، اینٹی اینکروچمنٹ پولیس اور مقامی پولیس کی بھاری نفری موقع پر موجود رہی۔ کے ایم سی کے متعلقہ ڈائریکٹر نے بتایا کہ تجاوزات قائم کرنے والے افراد کو پہلے نوٹسز جاری کیے گئے تھے، تاہم مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے واضح کیا کہ نالوں کی زمینوں، سرکاری اراضی اور عام شاہراہوں کو لینڈ مافیا اور تجاوزات کنندگان سے پاک کرنے کا سلسلہ بلا تفریق جاری رکھا جائے گا۔

علاقہ مکینوں نے کے ایم سی کے اس اقدام کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ آپریشن کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی روک تھام کے لیے مستقل نگراں ٹیمیں اور سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے جائیں تاکہ سڑکیں اور فٹ پاتھ شہریوں کے لیے کھلے رہ سکیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
شہر میں نالوں اور شاہراہوں پر تجاوزات کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں ماضی میں بھی وقتاً فوقتاً ہوتی رہی ہیں، تاہم مستقل نگرانی کے فقدان کے باعث اکثر مقامات پر تجاوزات دوبارہ قائم ہو جاتی ہیں۔ یہ خبر کے ایم سی حکام کے بیانات اور موقع پر موجود ذرائع کی فراہم کردہ تفصیلات پر مبنی ہے۔

ماخذ: کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) ذرائع