Latest news

بھارت کے مغربی بنگال میں درگا پوجا کی تقریب کے دوران بھگدڑ، 19 افراد ہلاک، 25 زخمی

Spread the love

محمود احمد, October18,2026

کولکتہ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء

بھارت کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کے دارالحکومت کولکتہ میں درگا پوجا کی ایک تقریب کے دوران ہجوم بے قابو ہونے سے بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور 25 دیگر زخمی ہو گئے۔ واقعہ ہفتے کی شام شمالی کولکتہ میں ایک مقامی درگا پوجا پنڈال کے باہر پیش آیا، جہاں مذہبی تقریب میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بارش شروع ہونے کے بعد پنڈال میں داخل ہونے کے منتظر افراد نے بیک وقت اندر جانے کی کوشش کی، جس سے ہجوم میں دھکم پیل شروع ہوئی اور متعدد افراد زمین پر گر گئے۔

پولیس کے ایک سینئر افسر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ چورباگان درگا پوجا پنڈال کے باہر لوگوں کی بڑی تعداد جمع تھی۔ بارش شروع ہونے پر باہر انتظار کرنے والے افراد نے ایک ساتھ پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ اندر موجود بعض افراد باہر نکل رہے تھے۔ داخلے اور اخراج کے اس دباؤ کے باعث لوگوں کے درمیان جگہ کم پڑ گئی اور صورتِ حال بھگدڑ میں تبدیل ہو گئی۔

حکام کے مطابق واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو فوری طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 25 افراد کو تشویش ناک حالت میں کولکتہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال لے جایا گیا۔ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد ابتدائی رپورٹوں میں بیان کی گئی ہے؛ واقعے کی مکمل تفصیلات، متاثرین کی شناخت اور زخمیوں کی تازہ طبی حالت کے بارے میں مزید معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

بارش اور ہجوم کے دباؤ سے صورتِ حال بگڑی

درگا پوجا مغربی بنگال، بالخصوص کولکتہ، میں بڑے پیمانے پر منایا جانے والا مذہبی تہوار ہے۔ اس موقع پر مختلف علاقوں میں عارضی پنڈال قائم کیے جاتے ہیں، جہاں مذہبی رسومات، سجاوٹ اور دیگر تقریبات دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شہری پہنچتے ہیں۔ مقبول پنڈالوں کے باہر طویل قطاریں لگ سکتی ہیں اور بعض اوقات لوگوں کی آمدورفت کو منظم رکھنا انتظامیہ کے لیے مشکل ہو جاتا ہے۔

چورباگان پنڈال کے باہر پیش آنے والے واقعے میں بھی بظاہر ہجوم کی آمد اور واپسی کے لیے جگہ کی کمی نے صورتِ حال کو پیچیدہ بنایا۔ پولیس افسر کے بیان کے مطابق بارش کے بعد لوگوں نے ایک ہی وقت میں اندر داخل ہونے کی کوشش کی، جبکہ کچھ افراد باہر نکل رہے تھے۔ ایسے حالات میں ہجوم کے دباؤ سے افراد کا توازن کھو دینا اور ایک دوسرے پر گرنا بھگدڑ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

تاہم واقعے کی حتمی وجوہات کے تعین کے لیے انتظامی انتظامات، داخلی اور خارجی راستوں کی گنجائش، ہجوم کو کنٹرول کرنے کے اقدامات اور موقع پر موجود حفاظتی عملے کے کردار کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔ دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ پنڈال میں داخلے کے لیے کتنے راستے کھلے تھے یا اس وقت وہاں مجموعی طور پر کتنے افراد موجود تھے۔

زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا

پولیس کے مطابق زخمیوں کو کولکتہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ کم از کم 25 زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی گئی، تاہم یہ واضح نہیں کہ ان میں سے کتنے افراد کی حالت بعد میں بہتر ہوئی یا آیا ہلاکتوں کی تعداد میں کوئی تبدیلی آئی۔

اس نوعیت کے واقعات میں فوری طبی امداد، زخمیوں کی بروقت منتقلی اور جائے وقوعہ پر امدادی ٹیموں کی رسائی اہم ہوتی ہے۔ بھگدڑ کے دوران زخمی ہونے والے افراد کو جسمانی چوٹوں، سانس لینے میں دشواری اور ہجوم کے دباؤ سے پیدا ہونے والے دیگر مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے اسپتالوں میں متاثرین کی حالت کا مسلسل جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے۔

تاحال فراہم کردہ معلومات میں ہلاک ہونے والوں کے نام، عمریں یا ان کا تعلق کن علاقوں سے تھا، اس کی تفصیلات شامل نہیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ واقعے کے بعد پولیس نے پنڈال کے منتظمین سے پوچھ گچھ شروع کی ہے یا کسی باضابطہ تحقیقات کا اعلان کیا گیا ہے۔

مذہبی اجتماعات میں ہجوم کا انتظام اہم

کولکتہ میں پیش آنے والا واقعہ بڑے عوامی اجتماعات میں ہجوم کے انتظام کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ایسے اجتماعات میں داخلے اور اخراج کے راستے الگ رکھنا، لوگوں کی آمد کو مرحلہ وار منظم کرنا، ہجوم کی گنجائش کا خیال رکھنا اور ہنگامی صورتِ حال میں فوری کارروائی کے انتظامات کرنا اہم حفاظتی اقدامات ہیں۔

بارش یا اچانک موسم کی تبدیلی کے دوران لوگ عموماً پناہ لینے یا کسی محفوظ جگہ پہنچنے کے لیے جلدی کرتے ہیں۔ اگر ایک ہی وقت میں بڑی تعداد میں افراد کسی محدود راستے سے گزرنے کی کوشش کرے تو دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ اس لیے منتظمین اور مقامی انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ موسم اور ہجوم کی صورتِ حال کے مطابق حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیتے رہیں۔

واقعے کے بعد اب اہم سوالات یہ ہیں کہ پنڈال میں ہجوم کو منظم کرنے کے لیے کیا انتظامات کیے گئے تھے، بھگدڑ کے دوران امدادی کارروائیاں کتنی تیزی سے شروع ہوئیں اور مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے کون سے اقدامات کیے جائیں گے۔ ان سوالات کے جواب تحقیقات اور حکام کی مزید وضاحت کے بعد سامنے آ سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: دستیاب ابتدائی اطلاعات کے مطابق کولکتہ میں درگا پوجا کی تقریب کے دوران بھگدڑ سے کم از کم 19 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔ پولیس کے ایک سینئر افسر نے بارش کے بعد ہجوم کے اچانک پنڈال میں داخل ہونے کی کوشش کو واقعے کے پس منظر میں بیان کیا ہے، تاہم حتمی وجوہات اور انتظامی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ زخمیوں کی حالت اور ہلاکتوں کی حتمی تعداد سے متعلق تازہ سرکاری معلومات سامنے آنا باقی ہیں۔

ماخذ: مغربی بنگال پولیس کے حوالے سے ابتدائی اطلاعات، کولکتہ میڈیکل کالج اینڈ ہسپتال، کشمیر میڈیا سروس