

منصور احمد,October18,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اکتوبر 2026ء
وزیرِ اعظم پاکستان محمد شہباز شریف نے اسلام آباد دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دانش اسکولوں کا تعلیمی منصوبہ اب پنجاب سے نکل کر پورے پاکستان میں اپنی خوشبو پھیلا رہا ہے اور اس ادارے سے وابستہ تعلیمی خاندان مستقبل میں مزید وسیع ہوگا۔ انہوں نے اس دن کو اپنے لیے اور اس منصوبے سے وابستہ تمام افراد کے لیے تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دانش اسکولوں کا دائرہ کار بڑھنے سے ملک بھر میں معیاری تعلیم کے مواقع کو فروغ دینے کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیرِ اعظم کے خطاب کا مرکزی پیغام یہ تھا کہ دانش اسکولوں کا منصوبہ اب ایک صوبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے قومی سطح پر وسعت دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق، اس تعلیمی ماڈل کے ذریعے ایسے بچوں کو بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنے کا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے جنہیں معیاری تعلیمی سہولتوں تک رسائی میں مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔
اسلام آباد میں دانش اسکول کا افتتاح اس منصوبے کی توسیع کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ اس سے وفاقی دارالحکومت میں بھی دانش اسکولوں کے تعلیمی ماڈل کو متعارف کرانے کا موقع ملے گا۔ تاہم نئے ادارے میں داخلوں، طلبہ کی تعداد، تدریسی عملے اور تعلیمی پروگراموں سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے واضح کی جانا اہم ہوں گی۔
پنجاب سے شروع ہونے والا منصوبہ قومی سطح پر وسعت کی جانب
دانش اسکول منصوبہ پنجاب میں معیاری تعلیم کے مواقع بڑھانے کے مقصد سے متعارف کرایا گیا تھا۔ اس ماڈل میں تعلیمی سہولتوں، نظم و ضبط اور طلبہ کی مجموعی تربیت پر توجہ دی جاتی ہے۔ منصوبے کی توسیع کے ذریعے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ مختلف علاقوں کے طلبہ کو بھی ایسے اداروں میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع مل سکے جہاں انہیں بہتر تعلیمی ماحول میسر ہو۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں دانش اسکولوں کو ایک بڑے تعلیمی خاندان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اب یہ خاندان پورے پاکستان میں پھیلنے جا رہا ہے۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس منصوبے کو مزید علاقوں تک پہنچانے اور اس کے ذریعے تعلیمی مواقع میں اضافے کی خواہش رکھتی ہے۔
تعلیمی اداروں کی توسیع کے ساتھ یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ نصاب، اساتذہ کی دستیابی، بنیادی سہولتوں اور تعلیمی معیار کو برقرار رکھا جائے۔ نئے اسکولوں کی کامیابی کا انحصار صرف عمارتوں کی تعمیر پر نہیں بلکہ تدریسی عمل، طلبہ کی ضروریات اور تعلیمی نتائج پر بھی ہوتا ہے۔
معیاری تعلیم اور طلبہ کے لیے مواقع
دانش اسکولوں جیسے منصوبوں کی اہمیت اس بات سے جڑی ہے کہ بچوں کو تعلیم حاصل کرنے کے لیے مناسب ماحول، تربیت یافتہ اساتذہ اور ضروری تعلیمی وسائل میسر ہوں۔ ایسے ادارے طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ نظم و ضبط، اعتماد اور مستقبل کی تیاری میں مدد فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، بشرطیکہ ان کی سہولتیں مؤثر انداز میں چلائی جائیں۔
اسلام آباد میں نئے اسکول کے افتتاح کے بعد توجہ اس بات پر بھی رہے گی کہ ادارے میں داخلے کا طریقۂ کار کیا ہوگا، کن طلبہ کو ترجیح دی جائے گی اور تعلیم کے معیار کو جانچنے کے لیے کون سا نظام اپنایا جائے گا۔ ان تفصیلات کی وضاحت سے والدین اور طلبہ کو نئے ادارے کے مواقع اور شرائط سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔
ملک میں معیاری تعلیم تک یکساں رسائی ایک اہم چیلنج ہے۔ شہری اور دور دراز علاقوں میں تعلیمی سہولتوں، اساتذہ اور وسائل کی دستیابی میں فرق پایا جا سکتا ہے۔ اس لیے کسی بھی قومی تعلیمی منصوبے کی توسیع کے دوران ضروری ہے کہ مختلف علاقوں کی ضروریات کو مدنظر رکھا جائے اور طلبہ کو عملی طور پر فائدہ پہنچانے کے اقدامات کیے جائیں۔
توسیع کے ساتھ معیار برقرار رکھنا بھی اہم
دانش اسکولوں کو ملک بھر میں وسعت دینے کے منصوبے کے لیے مناسب مالی وسائل، مستقل انتظامی نگرانی اور تعلیمی معیار کی جانچ اہم عوامل ہوں گے۔ نئے اداروں میں طلبہ کو بہتر تعلیم فراہم کرنے کے لیے تربیت یافتہ اساتذہ، کتب، سائنسی و کمپیوٹر لیبارٹریوں، کھیلوں اور دیگر ضروری سہولتوں کی دستیابی بھی اہمیت رکھتی ہے۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے طلبہ کی حاضری، تعلیمی نتائج، اساتذہ کی تربیت اور والدین کے ساتھ رابطے جیسے پہلوؤں کو اہمیت دینا ضروری ہے۔ اگر ان شعبوں پر مسلسل توجہ دی جائے تو تعلیمی منصوبے کی توسیع کو دیرپا نتائج میں تبدیل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
وزیرِ اعظم کے خطاب میں دانش اسکولوں کے مستقبل کو ایک بڑے قومی تعلیمی خاندان کی صورت میں پیش کیا گیا۔ اسلام آباد میں افتتاح اس سمت میں ایک قدم ہے، جبکہ منصوبے کی حقیقی کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہوگا کہ مزید علاقوں میں کتنے طلبہ کو معیاری تعلیم کے مواقع ملتے ہیں اور تعلیمی معیار کس حد تک برقرار رکھا جاتا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے خطاب میں دانش اسکول منصوبے کی پنجاب سے آگے قومی سطح پر توسیع اور اسلام آباد میں نئے ادارے کے افتتاح کو تاریخی پیش رفت قرار دیا گیا۔ تاہم ملک بھر میں مزید اسکولوں کے قیام، داخلوں کی شرائط، طلبہ کی تعداد اور منصوبے کے مستقبل کے مراحل سے متعلق تفصیلات کی تصدیق کے لیے متعلقہ حکام کے باضابطہ اعلانات اہم ہوں گے۔ منصوبے کے اثرات کا جائزہ تعلیمی سہولتوں، معیار اور طلبہ کے نتائج کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے۔
ماخذ: وزیرِ اعظم پاکستان کا اسلام آباد دانش اسکول کی افتتاحی تقریب سے خطاب