Latest news

سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی کا وزیراعظم کو خط، امن جرگہ اعلامیے پر عملدرآمد کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, October05,2026

پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اکتوبر 2026ء

خیبر پختونخوا اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی نے وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر صوبے میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں 2025 کے امن جرگہ اعلامیے پر عملدرآمد کا مطالبہ کیا ہے۔

سپیکر کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبے میں شدت پسندی اور امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی کمیٹی تشکیل دی تھی۔ کمیٹی کو تمام متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے بعد سکیورٹی صورتحال سے متعلق جامع رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

خط میں کہا گیا ہے کہ خصوصی کمیٹی نے خیبر پختونخوا کے گورنر، صوبائی حکومت، سیاسی جماعتوں کی قیادت، منتخب نمائندوں، مسلح افواج اور دیگر سکیورٹی اداروں سے رابطہ کیا۔ اسی مشاورتی عمل کے تحت 12 نومبر 2025 کو ایک امن جرگہ بھی منعقد کیا گیا، جس میں 30 سے زائد سیاسی رہنماؤں، منتخب نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں نے شرکت کی۔

بابر سلیم سواتی کے مطابق جرگے نے شدت پسندی، سکیورٹی اور پائیدار امن کے حوالے سے ایک مشترکہ اعلامیہ منظور کیا، جسے وزیراعظم کے دفتر کو بھی ارسال کیا گیا تھا۔

خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی اور خصوصی کمیٹی نے سکیورٹی سے متعلق سرکاری محکموں اور اداروں سے تفصیلی بریفنگز حاصل کیں، تاہم کور کمانڈر الیون کور کے دفتر کی جانب سے کمیٹی کو بریفنگ فراہم نہیں کی گئی۔

سپیکر کے مطابق خصوصی کمیٹی کا مقصد سکیورٹی اداروں کے آپریشنل معاملات میں مداخلت کرنا نہیں بلکہ منتخب نمائندوں کو ان امور سے آگاہ رکھنا ہے جو براہ راست ان کے حلقوں اور عوام کو متاثر کرتے ہیں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ کمیٹی کی تیار کردہ رپورٹ کو قومی ایکشن پلان میں شامل کرنے کے لیے وفاقی حکومت اور شدت پسندی کی روک تھام کے لیے صوبائی حکومت کو فراہم کیا جانا تھا، تاہم سپیکر کے مطابق کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے مطلوبہ بریفنگ نہ ملنے کے باعث رپورٹ مکمل نہیں ہوسکی۔

بابر سلیم سواتی نے بتایا کہ خصوصی کمیٹی اب بھی متعلقہ فریقوں اور کور کمانڈر الیون کور کے دفتر سے رابطے میں ہے تاکہ مشاورت مکمل کرکے رپورٹ کو حتمی شکل دی جاسکے۔

سپیکر کے خط کے مطابق رپورٹ مکمل ہونے کے بعد اسے منظوری کے لیے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک رہنما پالیسی دستاویز کے طور پر شیئر کیا جائے گا۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ صوبائی اسمبلی عوامی نمائندوں کی قیادت اور سرپرستی میں رائے عامہ کو منظم کرکے شدت پسندی کے خاتمے اور صوبے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے تعاون کرنے کو تیار ہے۔

بابر سلیم سواتی نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ رپورٹ کی تکمیل اور صوبائی اسمبلی سے منظوری کے بعد اسے وفاقی حکومت کو ارسال کیا جائے گا تاکہ اسے قومی ایکشن پلان میں شامل کرنے پر غور کیا جاسکے۔ سپیکر نے خط کا متن اور اس کی تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بھی شیئر کی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
کور کمانڈر الیون کور کے دفتر کی جانب سے بریفنگ نہ دیے جانے اور اسی وجہ سے رپورٹ مکمل نہ ہونے کا دعویٰ سپیکر بابر سلیم سواتی کے خط میں بیان کیا گیا ہے۔ خبر میں اسے حتمی طور پر ثابت شدہ وجہ کے طور پر نہیں بلکہ سپیکر کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ رپورٹ کی حتمی منظوری اور قومی ایکشن پلان میں شمولیت بھی آئندہ متعلقہ حکام کے فیصلوں سے مشروط ہوگی۔

ماخذ: سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی کا خط اور ایکس پر بیان